🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

80. باب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2467
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو (مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2467]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے دوران میں اپنا سر مبارک میری طرف جھکا دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ہی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض3 (297)، (تحفة الأشراف: 17908)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 28 (102)، الاعتکاف 1 (1)، 7 (7)، مسند احمد (6/104، 204، 231، 247، 262، 272، 281)، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1085) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (297)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2468
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يُتَابِعْ أَحَدٌ مَالِكًا عَلَى عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ. وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2468]
ابن شہاب زہری بواسطہ عروہ اور عمرہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کرتی ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ایسے ہی یونس نے بھی زہری سے روایت کیا ہے اور کسی نے بھی «عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ» کی سند میں مالک کی متابعت نہیں کی ہے، معمر اور زیاد بن سعد وغیرہ «الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ» کی سند سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الاعتکاف 3 (2029)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297)، سنن الترمذی/الصیام 80 (805)، سنن النسائی/ الکبری/ الاعتکاف (3375)، سنن ابن ماجہ/الصوم 63 (1776)، (تحفة الأشراف: 16579)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2029)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَكُونُ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَيُنَاوِلُنِي رَأْسَهُ مِنْ خَلَلِ الْحُجْرَةِ فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ". وَقَالَ مُسَدَّدٌ: فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2469]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں سے اپنا سر میری طرف کر دیتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی۔ مسدد کے الفاظ ہیں: میں آپ کی کنگھی کر دیتی جبکہ میں حائضہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16870) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (295، 2030، 5925) صحيح مسلم (297)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي"، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ. قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا، أَوْ قَالَ: شَرًّا.
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، (اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے (ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے)، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! (آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ (یا کہا: کوئی شر) نہ ڈال دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2470]
ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے اور میں رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہوئی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتی رہی، پھر میں واپس آنے کے لیے اٹھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس چھوڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے جبکہ میری رہائش سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے احاطے میں تھی۔ تو (ہمارے پاس سے) دو انصاری گزرے، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: رک جاؤ! یہ میرے ساتھ (میری اہلیہ) صفیہ بنت حیی ہے۔ ان دونوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، اے اللہ کے رسول! (آپ کو کسی قسم کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں) آپ نے فرمایا: بلاشبہ شیطان انسان کے جسم میں ایسے چلتا ہے جیسے خون، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ ڈال نہ دے۔ یا فرمایا: برائی نہ ڈال دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الاعتکاف 11 (2038)، 12 (2039)، بدء الخلق 11 (3281)، الأحکام 21 (7171)، صحیح مسلم/السلام 9 (2175)، سنن ابن ماجہ/الصیام 65 (1779)، (تحفة الأشراف: 15901)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/156، 285، 309، 6/337)، سنن الدارمی/الصوم 55 (1821)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (4994) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3281) صحيح مسلم (2175)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ.
زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2471]
شعیب، زہری سے ان کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ (سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے کے قریب پہنچے جو کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے کے پاس تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو آدمی گزرے۔ اور مذکورہ بالا (حدیث) کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15901) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2035)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں