🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

119. قِصَّةُ رَجُلٍ مُخْدَجِ الْيَدِ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شُعَيْرَاتٌ
ایک ایسے شخص کا قصہ جس کا ہاتھ ناقص تھا اور اس کے پستان کی گھنڈی پر چھوٹے بال تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8831
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد وأبو أحمد بكر (1) بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو قالا: حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد، حدثني أَبي، حدثنا يزيد بن صالح، أنَّ أبا الوَضِيء عبَّاد بن نُسَيب حدَّثه، أنه قال: كنا في مَسيرٍ عامدِينَ إلى الكوفة مع أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فلما بَلَغْنا مسيرَ ليلتين أو ثلاثٍ من حَرُوراءَ شذَّ منا ناس، فذكرنا ذلك لعليٍّ، فقال: لا يَهُولنَّكم أمرُهم، فإنهم سَيرجِعون، فنَظَرْنا، فلما كان من الغد شذَّ مِثلا مَن شذَّ، فذكرنا ذلك لعليٍّ، فقال: لا يَهُولَنَّكم أَمرُهم، فإِنَّ أَمرَهم يسير، وقال علي: لا تَبدَؤُوهم بقتالٍ حتى يكونوا هم الذين يبدؤُونكم، فجَثَوْا على رُكَبِهم واتَّقَينا بتُرُسِنا، فجعلوا يَنالُونا بالنُّشّاب والسِّهام، ثم إنهم دَنَوْا منا فأَسنَدوا لنا الرِّماح، ثم تناوَلونا بالسيوف حتى همُّوا أن يَضَعُوا السيوف فينا، فخرج إليهم رجلٌ من عبدِ القَيْس يقال له: صَعصعة بن صُوحان، فنادى ثلاثًا، فقالوا: ما تشاءُ؟ فقال: أُذكِّرُكم الله أن تَخرُجوا بأرضٍ تكون مَسبَّةً على أهل الأرض، وأذكِّرُكم الله أَن تَمرُقوا من الدِّين مروقَ السَّهم من الرَّمِيَّة. فلما رأيناهم قد وَضَعوا فينا السيوفَ، قال علي: انهَضُوا على بَرَكة الله، فما كان إِلَّا فُوَاقٌ من نهارٍ حتى ضَجَّعْنا مَن ضَجَّعْنا، وهربَ مَن هربَ، فَحَمِدَ الله عليٌّ، فقال: إنَّ خليلي ﷺ أخبرني أن قائدَ هؤلاءِ رجلٌ مُخدَجُ اليدِ، على حَلَمَة ثَدْيِهِ شُعَيرات كأنهن ذَنَبُ يَربُوع، فالتَمَسُوه فلم يجدوه، فأَتيناه فقلنا: إنا لم نَجِدْه، فقال: التَمِسُوه، فواللهِ ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، فما زِلْنا نلتمسُه حتى جاء عليٌّ بنفسه إلى آخر المعركة التي كانت لهم، فما زالَ يقول: اقلِبُوا ذا، اقلِبُوا ذا، حتى جاء رجلٌ من أهل الكوفة فقال: ها هو ذا، فقال علي: الله أكبر، واللهِ لا يأتيكم أحدٌ يخبِرُكم من أبوه؛ مالك! فجعل الناس يقولون: هذا مالك، هذا مالك، يقول علي: ابن مَنْ؟ فيقولون: لا ندري. فجاء رجلٌ من أهل الكوفة فقال: أنا أعلمُ الناس بهذا، كنت أَرُوضُ مُهرةً لفلان ابن فلان، شيخٍ من بني فلان، وأضعُ على ظهرها جَوَالقَ سهلةً له، أُقبِلُ بها وأُدبِرُ، إذ نَفَرَت المُهْرة، فناداني فقال: يا غلامُ، انظُرْ فإنَّ المهرةَ قد نَفَرَت، فقلت: إني لأرى خَيَالًا كأنه غُراب أو شاة، إذ أشرفَ هذا علينا، فقال: من الرجلُ؟ فقال: رجلٌ من أهل اليَمامة، قال: وما جاءَ بك شَعِثًا شاحبًا؟ قال: جئتُ أعبدُ الله في مصلَّى الكوفة، فأَخذ بيدِه ما لنا رابعٌ إِلَّا اللهُ، حتى انطَلَقَ به إلى البيت، فقال لامرأته: إنَّ الله تعالى قد ساق إليكِ خيرًا، قالت: واللهِ إني إليه لفقيرةٌ، فما ذاك؟ قال: هذا رجلٌ شَعِثٌ شاحبٌ كما تَرَين [جاء] من اليَمامةِ ليعبدَ الله في مصلَّى الكوفة، فكان يعبدُ الله فيه ويدعو الناسَ حتى اجتمع الناسُ إليه، فقال علي: أمَا إِنَّ خَليلي ﷺ أخبرني أنهم ثلاثةُ إخوةٍ من الجنِّ، هذا أكبرُهم، والثاني له جمعٌ كبير، والثالث فيه ضعفٌ (1) . قد أخرج مسلمٌ ﵀ حديثَ المُخدَج على سبيل الاختصار في"المسند الصحيح" (1) ، ولم يخرجاه بهذه السِّياقة، وهو صحيح الإسناد والسند.
ابو الوضی عباد بن نسیب سے روایت ہے کہ ہم امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ کی طرف سفر کر رہے تھے، جب ہم حروراء سے دو یا تین راتوں کی مسافت پر پہنچے تو کچھ لوگ ہم سے جدا ہو گئے، ہم نے اس کا ذکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ان کا معاملہ تمہیں پریشان نہ کرے، وہ عنقریب واپس آ جائیں گے، ہم نے دیکھا کہ اگلے دن پہلے سے دگنے لوگ الگ ہو گئے، ہم نے دوبارہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ان کی بات تمہیں خوفزدہ نہ کرے، ان کا معاملہ معمولی ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (لشکر کو) ہدایت کی: تم ان سے لڑائی میں پہل نہ کرنا جب تک کہ وہ تم سے لڑائی شروع نہ کر دیں، پس وہ (خوارج) اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور ہم نے اپنی ڈھالوں کے ذریعے بچاؤ کیا، وہ ہم پر تیر برسانے لگے، پھر وہ ہمارے قریب آ گئے اور نیزوں سے حملے کیے، پھر تلواریں چلائیں یہاں تک کہ انہوں نے ہم پر تلواروں سے ٹوٹ پڑنے کا ارادہ کر لیا، تب بنو عبد القیس کا ایک شخص جس کا نام صعصعہ بن صوحان تھا ان کی طرف نکلا اور تین بار پکارا، انہوں نے پوچھا: تم کیا چاہتے ہو؟ صعصعہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں کہ تم ایسی سرزمین پر نہ نکلو جو اہل زمین کے لیے ملامت بن جائے، اور میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم دین سے اس طرح نہ نکل جاؤ جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے، جب ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ہم پر تلواریں چلا دی ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی برکت پر (دفاع کے لیے) اٹھ کھڑے ہو، پس دن کا تھوڑا سا حصہ ہی گزرا تھا کہ ہم نے جنہیں گرانا تھا گرا دیا اور جو بھاگنے والے تھے وہ بھاگ گئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد بیان کی اور فرمایا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ ان کا قائد ایک ایسا شخص ہوگا جس کا ہاتھ «مُخدَجُ اليدِ» (پیدائشی طور پر کٹا ہوا یا چھوٹا) ہوگا، اس کے چھاتی کے سرے پر چند بال ہوں گے «كأنهن ذَنَبُ يَربُوع» جو گویا کہ جربوع (صحرائی چوہے) کی دم کی طرح ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، لوگوں نے اسے تلاش کیا مگر وہ نہ ملا، ہم نے آ کر عرض کیا: ہمیں وہ نہیں ملا، انہوں نے فرمایا: اس اسے ڈھونڈو، اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے، ہم اسے تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود میدان جنگ کے آخری حصے تک پہنچ گئے، وہ مسلسل فرما رہے تھے: اسے پلٹ کر دیکھو، اسے الٹ کر دیکھو، یہاں تک کہ کوفہ کا ایک شخص آیا اور اس نے کہا: وہ یہ رہا! تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر! اللہ کی قسم، تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نہیں آئے گا جو تمہیں یہ بتا سکے کہ اس کا باپ کون ہے؛ یہ تو مالک ہے! لوگ کہنے لگے: یہ مالک ہے، یہ مالک ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس کا بیٹا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں، پھر کوفہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں اس کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، میں فلاں شخص کے ایک بچھیرے کو سدھا رہا تھا، میں اس کی پیٹھ پر ہلکی سی بوریاں لاد کر اسے ادھر ادھر چلا رہا تھا کہ اچانک بچھیرہ بدک گیا، اس بزرگ نے مجھے پکار کر کہا: اے لڑکے! دیکھو بچھیرہ بدک گیا ہے، میں نے کہا: میں ایک سایہ سا دیکھ رہا ہوں جو گویا کہ کوا یا بکری ہے، اتنے میں یہ شخص ہمارے سامنے ظاہر ہوا، اس بزرگ نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: اہل یمامہ کا ایک شخص ہوں، بزرگ نے پوچھا: تم اس پراگندہ حالی کے ساتھ یہاں کیسے آئے؟ اس نے کہا: میں کوفہ کے مصلیٰ میں اللہ کی عبادت کرنے آیا ہوں، پھر اس نے بزرگ کا ہاتھ پکڑا اور اللہ گواہ ہے کہ ہمارے علاوہ وہاں چوتھا کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ وہ اسے گھر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا: اللہ نے تمہاری طرف خیر بھیجی ہے، بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اس کی محتاج ہوں، وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ ایک پراگندہ حال شخص ہے جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو، یہ یمامہ سے کوفہ میں عبادت کے لیے آیا ہے، چنانچہ وہ وہاں عبادت کرتا اور لوگوں کو دعوت دیتا رہا یہاں تک کہ لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے، تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آگاہ رہو! میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ یہ جنات میں سے تین بھائی ہیں، یہ ان میں سب سے بڑا ہے، دوسرے کے پاس ایک بڑی جماعت ہوگی اور تیسرے میں کمزوری ہوگی۔
امام مسلم نے ناقص ہاتھ والے شخص کی حدیث کو اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8831]
تخریج الحدیث: «متنه غريب وفي بعض ألفاظه نكارة، والمتهم فيه عندنا هو يزيد بن صالح، ووقع في رواية عبد الله بن أحمد يزيد بن أبي صالح، وعدّهما الخطيب البغدادي في كتابه "غنية الملتمس" (683) واحدًا، وذكر أنه روى عن أنس وأبي الوضيء، مع أنَّ من تقدمه ممن ترجم ليزيد بن أبي صالح ...» [ترقيم الرساله 8831] [ترقيم الشركة 8720]

الحكم على الحديث: متنه غريب وفي بعض ألفاظه نكارة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں