المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
120. مُكَالَمَةُ ابْنِ عَمْرٍو مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِي التَّحْدِيثِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اہل عراق سے حدیث بیان کرنے کے متعلق گفتگو
حدیث نمبر: 8832
أخبرنا أحمد بن عثمان المقرئ وبكر بن محمد المروَزي قالا: حدثنا أبو قِلابة، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا أَبي، حدثنا حسين بن ذَكْوان، حدثنا عبد الله (2) بن بُرَيدة الأَسلمي، أن سليمان بن رَبِيعة الغبري (3) حدثه: أنه حجَّ مرةً في إمرة معاوية ومعه المنتصرُ بن الحارث الضَّبِّي في عصابةٍ من قُرّاء أهل البصرة، قال: فلما قَضَوْا نُسُكَهم قالوا: والله لا نَرجِعُ إلى البصرة حتى نلقى رجلًا من أصحاب محمدٍ ﷺ مَرْضيًّا، يحدِّثُنا بحديثٍ يُستَطرَفُ نحدِّثُ به أصحابَنا إذا رجعنا إليهم، قال: فلم نَزَل نسألُ حتى حُدِّثنا أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص نازلٌ بأسفل مكة، فعُدْنا إليه، فإذا نحن بثَقَلٍ عظيم (4) يرتحلون ثلاث مئة راحلة، منها مئةُ راحلةٍ ومئتا زاملةٍ، فقلنا: لمن هذا الثَّقَل؟ قالوا: لعبد الله بن عمرو، فقلنا: أكلُّ هذا له، وكنا نُحدَّث أنه من أشدِّ الناس تواضعًا؟ قال: فقالوا: ممَّن أنتم؟ فقلنا: من أهل العراق، قال: فقالوا: العَيبُ منكم حقٌّ يا أهل العراق، أمّا هذه المئةُ راحلةٍ، فلإخوانه يَحمِلُهم عليها، وأما المئتا زاملةٍ، فلمن نَزَلَ عليه من الناس، قال: فقلنا: دُلُّونا عليه، فقالوا: إنه في المسجد الحرام. قال: فانطلَقْنا نطلبُه حتى وَجَدْناه في دُبُر الكعبة جالسًا، فإذا هو قصيرٌ أَرمَصُ (1) أصلعُ بين بُردَين وعمامةٍ ليس عليه قميص، قد علَّق نعليه في شِماله، قال: فقلنا: يا عبد الله، إنك رجلٌ من أصحاب محمد ﷺ، فحدِّثنا حديثًا ينفعنا الله تعالى به بعد اليوم، قال: فقال لنا: ومن أنتم؟ قال: فقلنا له: لا تسألْ من نحن، حدِّثنا غفرَ الله لك، قال: فقال: ما أنا محدِّثَكم شيئًا حتى تُخبروني مَن أنتم، قلنا: وَدِدْنا أنك لم تَنقُدْنا وأعفَيتَنا وحدَّثتنا بعضَ الذي نسألك عنه، قال: فقال: والله لا أحدِّثُكم حتى تُخبروني من أيِّ الأمصار أنتم، قال: فلما رأَيناه حلفَ ولَجَّ، قلنا: فإنا ناسٌ من العراق، قال: فقال: أفٍّ لكم كلِّكم يا أهلَ العراق، إنكم تَكذِبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قال: فلما بلغ السُّخرِيَّ (2) ، وَجَدْنا من ذلك وَجْدًا شديدًا، قال: فقلنا: معاذَ الله أن نسخرَ من مثلِك، أما قولك: الكَذِبُ، فوالله لقد فَشَا في الناس الكذبُ وفينا، وأما التكذيبُ فوالله إنا لَنسمعُ الحديث لم نَسمعْ به من أحد نَثِقُ به، فإذا نكادُ نكذِّب به، وأما قولُك: السُّخريّ، فإنَّ أحدًا لا يسخرُ بمثلِك من المسلمين، فوالله إنك اليومَ لسيدُ المسلمين فيما نعلمُ نحن، إنك من المهاجرين الأوَّلين، ولقد بَلَغَنا أنك قرأتَ القرآن على محمدٍ ﷺ، وأنه لم يكن في الأرض قرشيٌّ أَبرَّ بوالدَيهِ منك، وأنك كنت أحسنَ الناس عينًا فأفسَدَ عينيك البكاءُ، ثم لقد قرأتَ الكتبَ كلَّها بعد رسول الله ﷺ، فما أحدٌ أفضلَ منك علمًا في أنفسِنا، وما نعلمُ بقيَ من العرب رجلٌ كان يرغَبُ عن فقهاءِ أهل مِصْرِه حتى يدخلَ إلى مِصْرٍ آخر يبتغي العلمَ عند رجل من العرب غيرَك، فحدِّثنا غفرَ الله لك، فقال: ما أنا بمحدِّثِكم حتى تُعطُوني مَوثِقًا أَلَّا تُكَذِّبوني ولا تَكذِبون عليَّ ولا تَسخَرون، قال: فقلنا: خذْ علينا ما شئت من مواثيق، فقال: عليكم عهدُ الله ومواثيقُه أن لا تُكذِّبوني ولا تَكذِبون عليَّ ولا تَسخَرون لما أحدِّثُكم، قال: فقلنا له: علينا ذاكَ، قال: فقال: إنَّ الله تعالى به عليكم كَفيلٌ ووَكِيل؟ فقلنا: نعم، فقال: اللهمَّ اشهَدْ عليهم. ثم قال عند ذاكَ: أما وربِّ هذا المسجدِ والبلد الحرام واليوم الحرام والشهرِ الحرام - ولقد استَسمنتُ اليمينَ أليس هكذا؟ قلنا: نعم، قد اجتهدتَ - قال: لَيُوشِكَنَّ بنو قَنطُوراء بن كركرى - قومٌ خُنْس الأنوف صِغارُ الأعيُن، كأنَّ وجوههم المَجَانُّ المُطرَقة - في كتاب الله المُنزَل أن يَسُوقوكم (1) من خُراسانَ وسِجستانَ سِياقًا عنيفًا، قومٌ يُوفُون اللَّمَم (2) ، وينتعلون الشَّعَر، ويَحتجِزون السيوفَ على أوساطهم (3) ، حتى ينزلوا الأُبُلّة، ثم قال: [وكم الأُبلّة] (4) من البصرة؟ قلنا: أربعُ فراسخَ، قال: ثم يَعقِدون بكل نخلة من نخل دِجْلة رأسَ فرسٍ، ثم يُرسِلون إلى أهل البصرة: أن اخرُجوا منها قبلَ أن تَنزِلَ عليكم، فيخرجُ أهلُ البصرة من البصرة، فيَلحَقُ لاحقٌ ببيت المقدِس، ويلحقُ آخرون بالمدينة، ويلحقُ آخرون بمكة، ويلحقُ آخرون بالأعراب (5) ، فلا يبقى أحدٌ من المصلِّين إلَّا قتيلًا وأسيرًا يحكمُون في دمِه ما شاؤوا. قال: فانصرَفْنا عنه وقد ساءَنا الذي حدَّثَنا، فمَشَينا من عنده غيرَ بعيدٍ، ثم انصرف المنتصرُ بنُ الحارث الضَّبِّي فقال: يا عبدَ الله بن عمرو قد حدَّثتنا فَظَعتَنا (1) فإنّا لا ندري من يدركُه منا، فحدِّثنا: هل بين يدَي ذلك علامةٌ؟ فقال عبد الله بن عمرو: لا تَعدَمْ عقلَك، نعم بين يدي ذلك أَمارةٌ، قال المنتصر بن الحارث: وما الأَمارةُ؟ قال: الأمارة: العَلَامة، قال له: وما تلك العلامة؟ قال: هي إِمارة الصِّبيان، فإذا رأيتَ إمارة الصِّبيان قد طَبَّقت الأرضَ، اعلَمْ أنَّ الذي أحدِّثُك قد جاء. قال: فانصرف عنه المنتصرُ فمشى قريبًا من غَلْوةٍ (2) ثم رجع إليه، قال: فقلنا له: عَلامَ تُؤْذِي هذا الشيخَ من أصحاب رسول الله ﷺ؟ فقال: والله لا أَنتهي حتى يبيِّنَ لي، فلما رجع إليه بيَّنه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8618 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8618 - على شرط مسلم
سلیمان بن ربیعہ غبری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ حج کیا، ان کے ہمراہ منتصر بن حارث ضبی اور اہلِ بصرہ کے قراء کی ایک جماعت تھی۔ انہوں نے کہا: جب لوگ اپنے مناسک ادا کر چکے تو کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! ہم اس وقت تک بصرہ واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایسے صحابی سے ملاقات نہ کر لیں جو پسندیدہ (اور ثقہ) ہوں، جو ہمیں کوئی ایسی انوکھی حدیث سنائیں جسے ہم واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو سنائیں۔“ وہ کہتے ہیں: ہم مسلسل پوچھتے رہے یہاں تک کہ ہمیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما مکہ کے نچلے حصے میں فروکش ہیں۔ ہم ان کے پاس گئے، تو وہاں ہم نے ایک بہت بڑا قافلہ (سامان) دیکھا، جس میں تین سو سواریاں کوچ کرنے کے لیے تیار تھیں، ان میں سے ایک سو سواریاں تھیں اور دو سو سامان لادنے والے اونٹ تھے۔ ہم نے پوچھا: ”یہ سامان کس کا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”عبداللہ بن عمرو کا۔“ ہم نے کہا: ”کیا یہ سب انہی کا ہے، حالانکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ متواضع ہیں؟“ لوگوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ ہم نے کہا: ”اہلِ عراق میں سے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اہلِ عراق! تم پر عیب لگانا برحق ہے، (بات یہ ہے کہ) یہ ایک سو سواریاں ان کے بھائیوں کے لیے ہیں جن پر وہ انہیں سوار کراتے ہیں، اور دو سو سامان لادنے والے اونٹ ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان کے ہاں مہمان ٹھہرتے ہیں۔“ ہم نے کہا: ”ہمیں ان کے پاس لے چلو۔“ انہوں نے کہا: ”وہ مسجد حرام میں ہیں۔“ چنانچہ ہم انہیں تلاش کرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کعبہ کے پچھلے حصے میں بیٹھے ہوئے پایا، وہ چھوٹے قد کے تھے، ان کی آنکھوں سے رطوبت بہہ رہی تھی اور سر پر بال نہیں تھے، دو چادروں اور ایک عمامے میں ملبوس تھے اور قمیص نہیں پہنی ہوئی تھی، اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: ”اے عبداللہ! آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، پس ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس سے آج کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں نفع دے۔“ انہوں نے ہم سے پوچھا: ”اور تم کون ہو؟“ ہم نے کہا: ”آپ یہ نہ پوچھیں کہ ہم کون ہیں، اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، ہمیں حدیث سنائیے۔“ انہوں نے کہا: ”میں تمہیں کوئی چیز نہیں سناؤں گا جب تک تم مجھے یہ نہ بتاؤ کہ تم کون ہو۔“ ہم نے کہا: ”ہمیں تو یہ پسند تھا کہ آپ ہم پر تنقید نہ کرتے اور ہمیں معاف رکھتے، اور جو ہم نے پوچھا ہے اس میں سے کچھ سنا دیتے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں ہرگز بیان نہیں کروں گا جب تک تم مجھے یہ نہ بتاؤ کہ تم کن شہروں کے رہنے والے ہو۔“ جب ہم نے دیکھا کہ انہوں نے قسم کھا لی ہے اور ضد کر رہے ہیں تو ہم نے کہا: ”ہم عراق کے لوگ ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے اہلِ عراق! تم سب کے لیے افسوس ہے، تم جھوٹ بولتے ہو، جھٹلاتے ہو اور تمسخر اڑاتے ہو۔“ جب انہوں نے تمسخر کی بات کی تو ہمیں یہ بات بہت ناگوار گزری۔ ہم نے کہا: ”اللہ کی پناہ کہ ہم آپ جیسے شخص کا تمسخر اڑائیں۔ رہی آپ کی جھوٹ کی بات، تو اللہ کی قسم! لوگوں میں اور ہم میں جھوٹ پھیل چکا ہے، اور رہی جھٹلانے کی بات، تو اللہ کی قسم! ہم کوئی ایسی حدیث سنتے ہیں جو ہم نے کسی ایسے شخص سے نہ سنی ہو جس پر ہم اعتماد کرتے ہوں، تو ہم اسے جھٹلانے کے قریب ہو جاتے ہیں۔ اور رہی آپ کی تمسخر کی بات، تو مسلمانوں میں سے کوئی بھی آپ جیسے شخص کا تمسخر نہیں اڑاتا، کیونکہ اللہ کی قسم! ہمارے علم کے مطابق آج آپ مسلمانوں کے سردار ہیں، آپ اولین مہاجرین میں سے ہیں، اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پڑھا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے)، اور یہ کہ روئے زمین پر کوئی قریشی آپ سے بڑھ کر اپنے والدین کا فرمانبردار نہیں، اور یہ کہ آپ لوگوں میں سب سے خوبصورت آنکھوں والے تھے لیکن رونے نے آپ کی آنکھیں خراب کر دیں، پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام (آسمانی) کتابیں پڑھیں، پس ہمارے نزدیک علم میں آپ سے افضل کوئی نہیں۔ اور ہم نہیں جانتے کہ عربوں میں کوئی ایسا شخص باقی ہو جو اپنے شہر کے فقہاء کو چھوڑ کر علم کی تلاش میں کسی دوسرے شہر جائے اور آپ کے سوا عرب کے کسی اور شخص سے علم حاصل کرے۔ لہٰذا اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، ہمیں حدیث بیان کیجیے۔“ انہوں نے کہا: ”میں تمہیں اس وقت تک حدیث بیان نہیں کروں گا جب تک تم مجھے پختہ عہد نہ دو کہ تم مجھے جھٹلاؤ گے نہیں، مجھ پر جھوٹ نہیں باندھو گے اور تمسخر نہیں اڑاؤ گے۔“ ہم نے کہا: ”آپ ہم سے جو عہد لینا چاہیں لے لیں۔“ انہوں نے کہا: ”تم پر اللہ کا عہد اور اس کے پیمان ہیں کہ میں تمہیں جو حدیث بیان کروں تم مجھے اس میں جھٹلاؤ گے نہیں، مجھ پر جھوٹ نہیں باندھو گے اور تمسخر نہیں اڑاؤ گے۔“ ہم نے کہا: ”ہم پر یہ لازم ہے۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا اس پر اللہ تعالیٰ تم پر ضامن اور وکیل ہے؟“ ہم نے کہا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا۔“ پھر انہوں نے اس وقت فرمایا: ”سنو! اس مسجد کے رب کی، اس حرمت والے شہر کی، اس حرمت والے دن کی اور اس حرمت والے مہینے کی قسم! (اور میں نے قسم کو خوب پختہ کر دیا ہے، کیا ایسا نہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوری کوشش کی ہے) انہوں نے فرمایا: عنقریب بنو قنطورا بن کرکری، جو کہ چپٹی ناکوں اور چھوٹی آنکھوں والی ایک قوم ہے، گویا ان کے چہرے تہہ بہ تہہ چڑھائی گئی ڈھالوں کی طرح ہیں، جیسا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں ہے، وہ تمہیں خراسان اور سجستان سے بڑی سختی کے ساتھ ہانکتے ہوئے لائیں گے۔ وہ ایسی قوم ہے جو کانوں کی لو تک بال رکھیں گے، بالوں کے جوتے پہنیں گے اور تلواریں اپنی کمروں پر باندھیں گے، یہاں تک کہ وہ اُبلّہ (بصرہ کا ایک مقام) میں آ اتریں گے۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”بصرہ سے اُبلّہ کتنی دور ہے؟“ ہم نے کہا: ”چار فرسخ۔“ انہوں نے کہا: ”پھر وہ دجلہ کے ہر کھجور کے درخت کے ساتھ ایک گھوڑے کا سر باندھیں گے، پھر وہ اہلِ بصرہ کی طرف پیغام بھیجیں گے کہ اس سے نکل جاؤ قبل اس کے کہ وہ تم پر ٹوٹ پڑیں، چنانچہ اہلِ بصرہ، بصرہ سے نکل جائیں گے، پس ان میں سے کوئی بیت المقدس جا ملے گا، کوئی مدینہ جا پہنچے گا، کوئی مکہ چلا جائے گا، اور کچھ لوگ دیہاتیوں (اعراب) سے جا ملیں گے، پھر نمازیوں میں سے کوئی باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ مقتول ہوگا یا قیدی ہوگا جس کے خون کا وہ جیسا چاہیں گے فیصلہ کریں گے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم ان کے پاس سے لوٹ آئے اور ہمیں اس حدیث نے بہت غمگین کیا، ہم ان کے پاس سے تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ منتصر بن حارث ضبی واپس مڑے اور کہنے لگے: ”اے عبداللہ بن عمرو! آپ نے ہمیں ایسی حدیث سنائی ہے جس نے ہمیں سخت خوفزدہ کر دیا ہے، اور ہمیں معلوم نہیں کہ ہم میں سے کون اسے پاتا ہے، پس ہمیں بتائیے کہ کیا اس واقعے سے پہلے کوئی نشانی ہوگی؟“ عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: ”اپنی عقل نہ کھو، ہاں! اس سے پہلے ایک امارت ہوگی۔“ منتصر بن حارث نے پوچھا: ”وہ امارت کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”امارت یعنی علامت۔“ اس نے پوچھا: ”وہ علامت کیا ہے؟“ فرمایا: ”وہ بچوں کی حکومت (قیادت) ہے، پس جب تم دیکھو کہ بچوں کی حکومت نے زمین کو ڈھانپ لیا ہے، تو جان لو کہ جو بات میں نے تمہیں بتائی ہے وہ آ پہنچی ہے۔“ وہ کہتے ہیں: منتصر ان کے پاس سے واپس آ گئے اور کوئی ایک تیر کی مسافت کے قریب چلے، پھر دوبارہ ان کے پاس واپس گئے۔ ہم نے ان سے کہا: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، اس بوڑھے شخص کو کیوں تکلیف دے رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں باز نہیں آؤں گا جب تک کہ وہ مجھے واضح نہ کر دیں۔“ پس جب وہ ان کی طرف لوٹے تو انہوں نے اسے واضح کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8832]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8832]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، من أجل سليمان بن الربيع فقد انفرد ابن بريدة بالرواية عنه، وذكره ابن حبان في "ثقاته"» [ترقيم الرساله 8832] [ترقيم الشركة 8721] [ترقيم العلميه 8618]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 8833
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد القطَّان ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا أَزهَر بن سعد، حدثنا عبد الله بن عَوْن، عن عِمران بن مسلم الخيَّاط، عن زيد بن وهب قال: كنا عند حُذَيفة في هذا المسجد فقال: أتَتكم أظلَّتكم تَرمي بالنَّشَف (4) ، ثم التي بعدها تَرمي بالرَّضْف، ثم التي بعدها المُظلِمة، ما فيكم رجل حيٌّ (1) يَرى ما ترون، لم يرَ فتنةَ المسيح فيراها أبدًا، قال: وفينا أعرابيٌّ من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيره، قال سبحانَ الله يا أصحاب محمد! كيف بالمَسيح وقد وُصِفَ لنا عريضَ الكَبْهة، مُشرِفَ الكَتَدِ (2) ، بعيد ما بين المَنكِبَين؟! فأنا رأيت حذيفةَ رُدِعَ منها رَدْعةً (3) ، قال: نَشَدتُك بالله، هل تدري كيف قلت؟ قال: قلتَ: ما فيكم رجل حيٌّ يَرى ما ترون، لم يرَ فتنةً الدجال فيراها أبدًا، قال: فأنا رأيتُ حذيفةَ تَسايَرَ عن (4) وجهه، قال: قلتُ: لأنه حَفِظَ الحديثَ على وجهه؟ قال: نعم. قال: ثم قال كلمةً ضعيفةً: أرأيتم يومَ الدارِ أمس، فإنها كانت فتنةً عامةً عمَّت الناس، قال: وفينا أعرابيٌّ من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيرُه، قال: سبحانَ الله يا أصحابَ محمد! فأين الذين يُبعِّقون لِقاحَنا (5) ، ويَنقُبون بيوتَنا؟! قال: أولئك هم الفاسقون، مرتين، قال: ولقد خرجتُ يومَ الجَرَعَة (1) ولقد علمتُ أنه لم يُهرَقُ فيها مِحجَمةٌ من دم، وما نهيتُ عنها إلَّا ابن الحصرامة، وفينا أعرابي من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيرُه، قال: سبحانَ الله يا أصحابَ محمد، ابن الحصرامةِ دونَ الناس! فقال: إنها إذا أقبلَتْ كانت للقائم والقائل، وإنَّ ابنَ الحصرامةِ رجلٌ قوَّالةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بعِمران بن مسلم (3) ، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8619 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بعِمران بن مسلم (3) ، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8619 - على شرط البخاري ومسلم
زید بن وہب سے روایت ہے کہ ہم اس مسجد میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارے پاس ایسے فتنے آ رہے ہیں جو تم پر چھا جائیں گے، وہ چھوٹے سنگریزے برسائیں گے، پھر اس کے بعد والا فتنہ گرم پتھر برسائے گا، پھر اس کے بعد اندھیر نگری والا فتنہ آئے گا، تم میں سے کوئی بھی ایسا زندہ شخص نہیں ہے جو وہ کچھ دیکھ لے جو تم دیکھ رہے ہو اور وہ دجال کا فتنہ نہ دیکھے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان قبیلہ ربیعہ کا ایک دیہاتی تھا، اس نے کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! دجال کا کیا حال ہوگا جبکہ ہمیں اس کا حلیہ چوڑی پیشانی، ابھرے ہوئے کوہان نما کندھے اور چوڑے شانوں والا بتایا گیا ہے؟ میں نے دیکھا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کی بات سے ٹھٹھک گئے اور فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کیا کہا؟“ اس نے کہا: آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا زندہ شخص نہیں ہے جو وہ سب دیکھ لے جو تم دیکھ رہے ہو اور وہ دجال کا فتنہ نہ دیکھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کا چہرہ کھل اٹھا، میں نے پوچھا: کیا اس لیے کہ اس نے حدیث کو صحیح طرح یاد رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دبی آواز میں کہا: ”تمہارا کل کے یومِ الدار (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے) کے بارے میں کیا خیال ہے، وہ ایک عمومی فتنہ تھا جس نے سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا“، اس دیہاتی نے کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! پھر وہ لوگ کہاں جائیں گے جو ہماری اونٹنیوں کے تھن کاٹ دیتے ہیں اور ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں؟ انہوں نے دو بار فرمایا: ”وہ لوگ فاسق ہیں۔“ انہوں نے مزید فرمایا: ”میں یومِ جرعہ کے دن نکلا تھا اور مجھے علم تھا کہ اس میں ایک پچھنے کے برابر بھی خون نہیں بہایا جائے گا، اور میں نے اس فتنے سے کسی کو نہیں روکا تھا سوائے ابن حصرامہ کے“، اس دیہاتی نے پھر کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! کیا ابن حصرامہ باقی لوگوں سے بڑھ کر تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جب فتنہ آتا ہے تو وہ (لڑنے کے لیے) کھڑے ہونے والے اور (بات کرنے کے لیے) زبان چلانے والے کے لیے ہوتا ہے، اور ابن حصرامہ بہت زیادہ باتیں کرنے والا شخص تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے عمران بن مسلم سے استدلال کیا ہے، لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8833]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے عمران بن مسلم سے استدلال کیا ہے، لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8833]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِين، عمران الخياط لا يكاد يُعرَف كما قال الذهبي في "ميزان الاعتدال"، وقد ترجمه البخاري في "التاريخ الكبير" 6/ 418 وابن حبان في "الثقات" 7/ 241، ولم يذكرا في الرواة عنه غير عبد الله بن عون، وزاد ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 6/ 308 منصورًا ومغيرة، وذكره ...» [ترقيم الرساله 8833] [ترقيم الشركة 8722] [ترقيم العلميه 8619]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لِين