🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

127. ذِكْرُ يَوْمِ الْخَلَاصِ
یومِ خلاص (خلاصی کے دن) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8845
وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا سعيد الجُريري، عن عبد الله بن شَقيق، عن مِحجَن بن الأدرَع: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَبَ الناسَ فقال:"يومُ الخَلَاص، وما يومُ الخَلَاص؟" ثلاثَ مرات، فقيل: يا رسول الله، ما يومُ الخلاص؟ فقال:"يجيء الدجالُ فيَصعَدُ أُحدًا، فيطَّلِعُ فيَنظُرُ إلى المدينةَ، فيقول لأصحابه: ألا ترونَ إلى هذا القصر الأبيض، هذا مسجدُ أحمد، ثم يأتي المدينةَ فيجدُ بكلِّ نَقْبٍ من نِقابِها مَلَكًا مُصلِتًا، فيأتي سَبَخةَ الجُرُفِ فيضربُ رِواقَه، ثم تَرجُفُ المدينةُ ثلاثَ رَجَفات، فلا يبقى منافقٌ ولا منافقةٌ، ولا فاسقٌ ولا فاسقةٌ، إِلَّا خرج إليه، فتَخلُصُ المدينةُ، وذلك يومُ الخَلَاص" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8631 - على شرط مسلم
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور تین بار فرمایا: خلاصی کا دن، اور کیا ہے خلاص کا دن؟ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! خلاص کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال آئے گا اور وہ احد پہاڑ پر چڑھے گا، پھر وہ مدینہ کی طرف جھانک کر دیکھے گا اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مسجد ہے، پھر وہ مدینہ کی طرف بڑھے گا تو اس کے ہر راستے پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا، پس وہ مقام جرف کے شور زدہ میدان میں ڈیرہ ڈالے گا، پھر مدینہ میں تین مرتبہ زلزلے کے جھٹکے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ہر منافق مرد و عورت اور ہر فاسق مرد و عورت نکل کر دجال کے پاس چلا جائے گا، یوں مدینہ (شرپسندوں سے) پاک ہو جائے گا، اور وہی خلاص کا دن ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8845]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قوله: "فيقول لأصحابه: ألا ترون هذا القصر الأبيض هذا مسجد أحمد فلم يجئ إلّا في حديث محجن هذا، ورجال إسناده عن آخرهم ثقات، إلّا أنَّ عبد الله بن شقيق أدخل بينه وبين محجن بن الأدرع في بعض حديثه رجاء بنَ أبي رجاء كما سبق بيانه عند الحديث ...» [ترقيم الرساله 8845] [ترقيم الشركة 8735] [ترقيم العلميه 8631]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں