🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

128. ذِكْرُ نَفْخِ الصُّورِ وَإِنْبَاتِ الْأَجْسَادِ
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8846
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرني أبي، عن شُعبة، عن النُّعمان ابن سالم، عن يعقوب بن عاصم، عن عبد الله بن عمرو قال: والله لولا شيءٌ ما حدَّثتُكم حديثًا، قالوا: إنك قلتَ: لا تقومُ الساعةُ إلى كذا وكذا، قال: إنما قلتُ: لا يكونُ كذا وكذا حتى يكونَ أمرٌ عظيمٌ (1) ، فقد كان ذاكَ، فقد حُرِّق البيتُ، وكان كذا، وقال رسول الله ﷺ:"يخرج الدَّجالُ فيلبَتُ في أمتي ما شاء الله، يَلبَثُ أربعين"، ولا أدري ليلةً أو شهرًا أو سنةً، قال:"ثم يَبْعَثُ الله عيسى ابنَ مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بنُ مسعود الثَّقفي، قال: فيطلبُه حتى يُهلِكَه، قال: ثم يبقى الناسُ سبعَ سنين، ليس بين اثنين عَدَاوَةٌ، قال: فيبعثُ الله ريحًا باردةً تجيءُ من قِبَل الشام، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال ذرّةِ إيمانٍ إِلَّا قَبَضَت روحَه، [حتى] لو أن أحدَكم في كَبِدِ جبلٍ [دَخَلَت عليه"، سمعت هذه من رسول الله ﷺ: كَبِد جبل] (2) قال:"ثم يبقى شِرارُ الناس، من لا يعرفُ معروفًا ولا ينكرُ منكرًا، في خِفّة الطير وأحلام السِّباع، قال: فيجيئُهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبونَ؟ قال: فيقولون: ماذا تأمرُنا؟ قال: فيأمرُهم بعبادة الأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارٌّ رِزقُهم، حسنٌ عيَشُهم، قال: ثم يُنفَخُ في الصُّور فلا يَسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغَى، فيكونُ أولَ من يَسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضَ إبلِه، قال: فيَصعَةُ، ثم يَصعَقُ الناسُ، فيُرسِلُ الله مطرًا كأنه الطَّلُّ، قال: فَتَنبُتُ أجسادُهم، قال: ثم يُنفَخُ فيه فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، فيقال: هَلُمَّ إلى ربِّكم، قِفُوهم إنهم مسؤُولون، قال: فيقال: أَخرجوا بَعْثَ النارِ، قال: فيقال: كم؟ فيقال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئة وتسعةً وتسعين" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر ایک خاص بات نہ ہوتی تو میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ لوگوں نے (یہ گمان کرتے ہوئے) عرض کیا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ قیامت فلاں فلاں وقت تک آ جائے گی، تو انہوں نے وضاحت فرمائی: میں نے تو یہ کہا تھا کہ فلاں فلاں بڑے امور پیش آنے تک ایسا نہیں ہوگا، اور وہ امور پیش آ چکے ہیں جیسے بیت اللہ کا نذرِ آتش ہونا وغیرہ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال نکلے گا اور میری امت میں جتنا اللہ چاہے گا ٹھہرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس، (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ چالیس راتیں، مہینے یا سال، پھر فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا جو (شکل و صورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ ہوں گے، وہ اسے تلاش کر کے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی دشمنی نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جو روئے زمین پر کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو مگر اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندرونی حصے میں بھی چھپا ہوا ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی داخل ہو جائے گی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ یعنی پہاڑ کا اندرونی حصہ سنے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی تیزی پرندوں جیسی اور عقلیں درندوں جیسی ہوں گی، وہ نہ نیکی کو پہچانیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، پھر شیطان ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟ وہ پوچھیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انہیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا اور وہ ان کی عبادت کرنے لگیں گے، اس حال میں بھی ان کا رزق فراواں ہوگا اور ان کی زندگی خوشحال ہوگی، پھر صور پھونکا جائے گا، جو بھی اسے سنے گا (دہشت سے) گردن ایک طرف جھکا دے گا، سب سے پہلے وہ شخص اسے سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا، وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا اور پھر تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو شبنم کی طرح ہوگی جس سے لوگوں کے اجسام (دوبارہ) اگ آئیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اپنے رب کی طرف آؤ، ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔ [سورة الصافات: 24] پھر کہا جائے گا: جہنم کا لشکر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنا؟ جواب ملے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے (999)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8846]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8846] [ترقيم الشركة 8736] [ترقيم العلميه 8632]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8847
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّق، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تَسمعون، إنَّ السماء أَطَّتْ، وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها - أو ما منها - موضعُ أربعِ أصابعَ إلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا (1) لله، والله لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُشات (2) ، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تجأَرُون إلى الله"، والله لوَدِدتُ أن كنت شجرةً تُعضَدُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان (فرشتوں کے بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانا ہی چاہیے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہو، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے بلکہ تم بلندیوں اور میدانوں کی طرف نکل جاتے اور اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے، (یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ کی قسم! میں تو یہ تمنا کرتا ہوں کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8847]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى» [ترقيم الرساله 8847] [ترقيم الشركة 8737] [ترقيم العلميه 8633]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8848
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو محمد بن زياد الدَّورَقي قالا: حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن حسَّان الأزرق، حدثنا رَيْحان بن سعيد حدثنا عَبَّاد - هو ابن منصور - عن أيوب، عن أبي قِلابةَ، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"سيُدرِكُ رِجالٌ (4) من أمَّتي عيسى ابنَ مريمَ ﵉، ويشهدون (5) قتالَ الدَّجّال" (6) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8634 - منكر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ضرور پائیں گے، اور وہ دجال کے خلاف جنگ میں شریک ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8848]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور، والراوي عنه ريحان بن سعيد ليس بذاك القوي» [ترقيم الرساله 8848] [ترقيم الشركة 8738] [ترقيم العلميه 8634]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8849
حدثنا محمد بن المظفر الحافظ، حدثنا عبد الله بن سليمان، حدثنا محمد (1) بن مُصفَّى الحِمصي، حدثنا إسماعيل، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"من أدرَكَ منكم عيسى ابنَ مريمَ، فليُقرِئْه مني السلامَ" (2) . صلَّى الله عليهما. إسماعيل هذا أظنُّه ابنَ عيَّاش، ولم يحتجّا به.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پائے، وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
میرا گمان ہے کہ یہ راوی اسماعیل بن عیاش ہے، اور شیخین نے اسے بطور حجت قبول نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8849]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، إن سَلِمَ من تدليس محمد بن مصفَّى الحمصي، وهو صدوق عرف بتدليس التسوية، وإسماعيل هذا هو ابن عُليّة، وليس ابن عياش كما ظنه المصنف، فإنَّ ابن عياش لا تعرف له رواية أبدًا عن أيوب» [ترقيم الرساله 8849] [ترقيم الشركة 8739]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں