المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. ذِكْرُ أَوَّلِ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
عربوں کو بت پرستی پر ابھارنے والے پہلے شخص کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9003
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب عن أبيه قال: بَيْنا نحن مع رسول الله ﷺ في صلاة الظُّهر، والناسُ في الصفوف خلفَ رسول الله ﷺ، فرأَينا رسولَ الله ﷺ يتناولُ شيئًا فجعل يتناولُه، فتأخَّر وتأخَّر الناس، ثم تأخَّر الثانيةَ فتأخَّر الناس، فقلت: يا رسول الله، رأيناك صنعتَ اليومَ شيئًا ما كنت تصنعه في الصلاة! فقال:"إنه عُرِضَت عليَّ الجنةُ بما فيها من الزَّهْرة والنَّضْرة، فتناولتُ قِطْفًا من عِنَبِها، ولو أخذتُه لأَكل منه ما بينَ السماء والأرض لا يَنقُصونَه، فحِيلَ بيني وبينَه، وعُرِضَت عليَّ النارُ، فلما وجدتُ سَفْعتها تأخَّرتُ عنها، وأكثرُ مَن رأيت فيها النساءُ، إنِ ائتُمِنَّ أَفَشَينَ، وإن سأَلن ألحَفْنَ، وإذا سُئلنَ بَخِلنَ، وإذا أُعطينَ لم يَشكُرنَ، ورأيت فيها عمرَو بن لُحَيٍّ يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وأشبَهُ ما رأيت به مَعبَدُ بنُ أَكثَمَ الكَعْبي (1) " فقال معبدٌ: يا رسول الله، أتخشى عليَّ من شَبَهه، فإنه والدٌ؟ فقال:"لا، أنت مؤمنٌ وهو كافرٌ، وهو أولُ من حَمَلَ العربَ على عبادِة الأصنام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8788 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8788 - صحيح
طفیل بن ابی بن کعب اپنے والد (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز میں تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفوں میں تھے، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کوئی چیز پکڑ رہے ہیں اور آپ اسے مسلسل پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے، پھر آپ پیچھے ہٹے تو لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے، پھر آپ دوسری مرتبہ پیچھے ہٹے تو لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو آج (نماز میں) ایسا کام کرتے دیکھا ہے جو آپ پہلے نماز میں نہیں کرتے تھے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جنت اپنی تمام تر رونقوں اور شادابیوں کے ساتھ پیش کی گئی، تو میں نے اس کے انگوروں کا ایک خوشہ پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو آسمان و زمین کے درمیان موجود تمام مخلوق بھی اسے کھاتی تو وہ کم نہ ہوتا، مگر میرے اور اس (خوشے) کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی۔ اور مجھ پر جہنم پیش کی گئی، تو جب میں نے اس کی تپش محسوس کی تو میں اس سے پیچھے ہٹ گیا، اور میں نے اس میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی (کیونکہ ان کا حال یہ ہے کہ) اگر ان کے پاس کوئی امانت (یا راز) رکھا جائے تو اسے افشا کر دیتی ہیں، اگر وہ سوال کریں تو چمٹ جاتی ہیں، اگر ان سے کچھ مانگا جائے تو بخل کرتی ہیں، اور اگر انہیں کچھ دیا جائے تو شکر ادا نہیں کرتیں۔ اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا جو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، اور میں نے اسے معبد بن اکثم کعبی کے سب سے زیادہ مشابہ پایا۔“ تو معبد نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو مجھ پر اس کی مشابہت کی وجہ سے کوئی اندیشہ ہے، کیونکہ وہ (میرا) باپ (یعنی جدِ امجد) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم مومن ہو اور وہ کافر تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے عربوں کو بت پرستی پر لگایا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9003]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9003]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به بهذه السياقة واضطرابه في إسناده، فكان مرة يجعله من حديثه عن الطفيل بن أُبي عن أبيه، ومرة من حديثه عن جابر بن عبد الله، وهذا هو المحفوظ» [ترقيم الرساله 9003] [ترقيم الشركة 8894] [ترقيم العلميه 8788]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف