المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. لَا يَضُرُّ شَبَهُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ
مسلمان کا کافر کے مشابہ ہونا (نادانستہ طور پر) نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 9004
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم الرّازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"عُرِضَت عليَّ النارُ، فرأيتُ فيها عمرَو بنَ قَمَعَة بنِ خِندِفَ أبو عمرو، وهو يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وهو أول من سَيَّبَ السَّوائب، وغَيَّر عهدَ إبراهيم ﵇، وأشبه من رأيتُ به أكثمُ بن أبي الجَوْن" قال: فقال أكثمُ: يا رسول الله، يَضرُّني شَبَهُه؟ قال:"لا، إنك مسلمٌ وإنه كافرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
ابوسلمہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جہنم پیش کی گئی، تو میں نے اس میں عمرو بن قمعہ بن خندف یعنی ابوعمرو کو دیکھا، اور وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے (بتوں کے نام پر) سائبہ (جانور) چھوڑے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین (عہد) کو تبدیل کیا، اور میں نے اسے اکثم بن ابی الجون کے سب سے زیادہ مشابہ پایا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اکثم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کی مشابہت مجھے کوئی نقصان پہنچائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یقیناً تم مسلمان ہو اور وہ کافر تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9004]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9004]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس بن المنذر، وأبو سلمة هو ابن عبد الرحمن بن عوف» [ترقيم الرساله 9004] [ترقيم الشركة 8895] [ترقيم العلميه 8789]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9005
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا كان يوم القيامةِ عُرَّفَ (1) الكافِرُ بعملِهِ فَجَحَدَ وخاصمَ، فيقول له: جيرانك يَشهَدون عليك، فيقول: كَذَّبوا، فيقال: أهلُك وعشيرتُك، فيقول: كَذَبوا، فيقال: احْلِفُوا، فيَحلِفون، ثم يُصمِتُهم اللهُ، ويَشْهَدُ عليهم ألسنتُهم، فيُدخِلُهم النارَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8790 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8790 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو کافر کو اس کے اعمال دکھائے جائیں گے، تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑے گا۔ اس سے کہا جائے گا: تمہارے پڑوسی تم پر گواہی دے رہے ہیں، تو وہ کہے گا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ پھر کہا جائے گا: تمہارے گھر والے اور تمہارا خاندان (گواہی دے رہا ہے)، تو وہ کہے گا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ پھر کہا جائے گا: تم قسم کھاؤ، تو وہ قسم کھا لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں خاموش کر دے گا اور ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی، پھر وہ انہیں جہنم میں داخل فرما دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9005]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9005]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف درّاج في أبي الهيثم» [ترقيم الرساله 9005] [ترقيم الشركة 8896] [ترقيم العلميه 8790]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف