المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. لَا يَضُرُّ شَبَهُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ
مسلمان کا کافر کے مشابہ ہونا (نادانستہ طور پر) نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 9003
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب عن أبيه قال: بَيْنا نحن مع رسول الله ﷺ في صلاة الظُّهر، والناسُ في الصفوف خلفَ رسول الله ﷺ، فرأَينا رسولَ الله ﷺ يتناولُ شيئًا فجعل يتناولُه، فتأخَّر وتأخَّر الناس، ثم تأخَّر الثانيةَ فتأخَّر الناس، فقلت: يا رسول الله، رأيناك صنعتَ اليومَ شيئًا ما كنت تصنعه في الصلاة! فقال:"إنه عُرِضَت عليَّ الجنةُ بما فيها من الزَّهْرة والنَّضْرة، فتناولتُ قِطْفًا من عِنَبِها، ولو أخذتُه لأَكل منه ما بينَ السماء والأرض لا يَنقُصونَه، فحِيلَ بيني وبينَه، وعُرِضَت عليَّ النارُ، فلما وجدتُ سَفْعتها تأخَّرتُ عنها، وأكثرُ مَن رأيت فيها النساءُ، إنِ ائتُمِنَّ أَفَشَينَ، وإن سأَلن ألحَفْنَ، وإذا سُئلنَ بَخِلنَ، وإذا أُعطينَ لم يَشكُرنَ، ورأيت فيها عمرَو بن لُحَيٍّ يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وأشبَهُ ما رأيت به مَعبَدُ بنُ أَكثَمَ الكَعْبي (1) " فقال معبدٌ: يا رسول الله، أتخشى عليَّ من شَبَهه، فإنه والدٌ؟ فقال:"لا، أنت مؤمنٌ وهو كافرٌ، وهو أولُ من حَمَلَ العربَ على عبادِة الأصنام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8788 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8788 - صحيح
سیدنا طفیل ابن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفوں میں موجود تھے، ہم نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں، اس کو لے کر آپ تھوڑا پیچھے ہٹے، لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوسری بار پھر پیچھے ہٹے، لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آج آپ کو نماز کے دوران ایسا عمل کرتے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے آپ کو ایسا کرتے کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت تمام خوبصورتی اور شادابی کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے اس کے انگوروں کے خوشوں میں سے ایک خوشہ لینے کا ارادہ کیا تھا، اگر میں وہ لے لیتا تو زمین و آسمان کے درمیان والی تمام مخلوق اس کو کھاتی، وہ تب بھی کم نہ ہوتا، پھر میرے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل کر دی گئی۔ پھر مجھ پر دوزخ پیش کی گئی، جب میں نے اس کی گرمائش کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا، میں نے اس میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان کو کوئی راز بتا دیا جائے تو یہ اس کو فاش کر دیتی ہیں، اگر یہ کچھ مانگتی ہیں تو بہت زیادہ ضد کرتی ہیں اور اگر ان سے کوئی چیز مانگی جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں، جب ان کو کچھ دیا جائے تو شکر نہیں کرتیں، اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ دوزخ میں اپنی آنتیں گھسیٹتا پھر رہا تھا، اور معبد بن اکثم خزاعی اس کے ساتھ بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔ سیدنا معبد نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مشابہت کی وجہ سے مجھے کوئی خطرہ ہے؟ وہ تو میرا والد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم مومن ہو، وہ کافر ہے۔ وہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے اہل عرب کو بتوں کی عبادت سے روشناس کروایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9003]
حدیث نمبر: 9004
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم الرّازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"عُرِضَت عليَّ النارُ، فرأيتُ فيها عمرَو بنَ قَمَعَة بنِ خِندِفَ أبو عمرو، وهو يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وهو أول من سَيَّبَ السَّوائب، وغَيَّر عهدَ إبراهيم ﵇، وأشبه من رأيتُ به أكثمُ بن أبي الجَوْن" قال: فقال أكثمُ: يا رسول الله، يَضرُّني شَبَهُه؟ قال:"لا، إنك مسلمٌ وإنه كافرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر دوزخ پیش کی گئی، میں نے اس میں عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف ابوعمرو کو دیکھا وہ آگ میں اپنی آنتیں گھسیٹتا پھر رہا تھا، یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مذہب کو تبدیل کیا، اور وہ اکثم بن ابی الجون سے بہت ملتا جلتا ہے، یہ سن کر اکثم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کے ساتھ مشابہت سے مجھے کوئی نقصان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم مسلمان ہو، وہ کافر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9004]