🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ الْإِشَارَةِ وَتَرْكِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں اشارہ کرنے اور کلام ترک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ يُصَلِّي، وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ. فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ إِلَيْهِمْ.  
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ انصار کے لوگ آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز کی حالت میں) سلام کرتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابن ماجہ: الصلوۃ، باب المصلی یسلم علیہ کیف یرد: 1017 - والنسائی، السہو، باب رد السلام بالاشارۃ فی الصلاۃ: 1188 - وصححہ ابن خزیمہ: 888 - والحاکم: 12/3.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:"إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ"  . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي، وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: ہم ہجرتِ حبشہ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمیں جواب دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کروں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں پایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہ دیا، تو مجھ کو نزدیک اور دور گزری ہوئی فکریں آلگیں، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل کے لیے تعریف ہے، وہ اپنے اوامر میں جو چاہتا ہے نیا حکم دے دیتا ہے، اور جو اللہ نے نیا حکم دیا وہ یہ کہ تم نماز میں بات چیت نہ کرو۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «أخرجہ النسائی: السہو، باب الکلام فی الصلوۃ: 1222 - وابو داود، الصلاۃ، باب رد السلام فی الصلاۃ: 924 - وصححہ ابن حبان: 2243، 2244.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں