سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ بِسِلاَحِهِ
باب: اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان۔
حدیث نمبر: 2538
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ كَذَا قَالَ: هُوَ يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ، وَعَنْبَسَةُ يَعْنِي ابْنَ خالد جميعا، عَنْ يُونُسَ، قَالَ أَحْمَدُ: وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو (وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے؟)، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے“۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں نے جھوٹ کہا، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے، اسے دوہرا اجر ملے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2538]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے موقع پر میرے بھائی (عامر بن اکوع) نے خوب قتال کیا اور (اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ) اس کی اپنی تلوار اچٹ کر خود اس کو لگ گئی جس سے وہ قتل ہو گیا۔ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں باتیں کرنے لگے اور اس (کی شہادت) کے سلسلے میں انہوں نے شک کا اظہار کیا کہ ایک آدمی اپنے ہی ہتھیار سے مارا گیا ہے (تو کیونکر شہید سمجھا جائے گا؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا اور مجاہد فوت ہوا ہے۔“ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے دریافت کیا تو اس نے مجھے اپنے باپ کے حوالے سے اسی کی مانند بیان کیا مگر اس کے الفاظ یہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلط کہتے ہیں، یہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا ہے، مجاہد فوت ہوا ہے اور اس کے لیے دگنا اجر ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجھاد 43 (1802)، سنن النسائی/الجھاد 29 (3152)، (تحفة الأشراف: 4532)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/47، 52) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1802)
حدیث نمبر: 2539
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَغَرْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ، فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابِهِ وَدِمَائِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشَهِيدٌ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ".
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو“، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2539]
جناب ابو سلام رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلے پر حملہ کیا۔ پس مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے ان کے ایک آدمی پر وار کیا اور اسے مارنا چاہا مگر اس کا وار خطا گیا اور اس کی تلوار خود اسے ہی لگ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مسلمانو! تمہارا بھائی! (اس کی خبر لو)۔“ لوگ بھاگ کر اس کی طرف گئے تو دیکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اسی کے کپڑوں میں خون سمیت لپیٹ دیا، اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور میں اس کے لیے گواہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15677) (ضعیف)» (اس کے راوی سلام ابی سلام مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سلام بن أبي سلام مجهول (تق : 2706)
و الوليد بن مسلم كان يدلس تدليس التسوية و عنعن !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
إسناده ضعيف
سلام بن أبي سلام مجهول (تق : 2706)
و الوليد بن مسلم كان يدلس تدليس التسوية و عنعن !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93