🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب في الرجل يموت بسلاحه
باب: اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2539
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَغَرْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ، فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابِهِ وَدِمَائِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشَهِيدٌ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ".
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2539]
جناب ابو سلام رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلے پر حملہ کیا۔ پس مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے ان کے ایک آدمی پر وار کیا اور اسے مارنا چاہا مگر اس کا وار خطا گیا اور اس کی تلوار خود اسے ہی لگ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمانو! تمہارا بھائی! (اس کی خبر لو)۔ لوگ بھاگ کر اس کی طرف گئے تو دیکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اسی کے کپڑوں میں خون سمیت لپیٹ دیا، اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور میں اس کے لیے گواہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15677) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سلام ابی سلام مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سلام بن أبي سلام مجهول (تق : 2706)
و الوليد بن مسلم كان يدلس تدليس التسوية و عنعن !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← اسم مبهم
ثقة يرسل
👤←👥سلام بن أبي سلام الحبشي
Newسلام بن أبي سلام الحبشي ← ممطور الأسود الحبشي
مجهول الحال
👤←👥معاوية بن سلام الحبشي، أبو سلام
Newمعاوية بن سلام الحبشي ← سلام بن أبي سلام الحبشي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← معاوية بن سلام الحبشي
ثقة
👤←👥هشام بن خالد السلامي، أبو مروان
Newهشام بن خالد السلامي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2539
أشهيد هو قال نعم وأنا له شهيد
Sunan Abi Dawud Hadith 2539 in Urdu