مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ بُطْلَانِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ وَرَدِّهِ
ولی کے بغیر نکاح کے باطل ہونے اور اسے رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1139
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ [ ص: 44 ] قَالَ:"أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا".
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1139]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، النكاح، باب في الولى (2083) وابن ماجة النكاح، باب لا نكاح الا بولی (1879). والترمذي، النكاح، باب ماجاء لا نكاح الا بولى (1102) - وقال حسن وصححه ابن الجارود (700) . والحاكم 2/ 168 - وابن حبان.»
حدیث نمبر: 1140
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:"أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا، وَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر مرد اس عورت سے ہم بستری کرے تو اس پر حقِ مہر کی ادائیگی واجب ہے، کیونکہ اس نے اس کے بدلے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔ اگر اولیاء کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1140]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم: (1139).»
حدیث نمبر: 1141
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: نَكَحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ، يُقَالُ لَهَا: بِنْتُ أَبِي ثُمَامَةَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُضَرِّسٍ، فَكَتَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْعُتْوَارِيُّ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِذْ هُوَ وَالِي الْمَدِينَةِ: إِنِّي وَلِيُّهَا وَإِنَّهَا نَكَحَتْ بِغَيْرِ أَمْرِي فَرَدَّهُ عُمَرُ وَقَدْ أَصَابَهَا قَالَ: فَأَيُّ امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَلَا نِكَاحَ لَهَا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا بِمَا قَضَى لَهَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنی بکر بن کنانہ میں سے ایک عورت نے، جسے بنتِ ابی ثمامہ کہا جاتا تھا، عمر بن عبداللہ بن مضرس سے نکاح کیا۔ علقمہ بن علقمہ العتواری نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا (جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے) کہ میں اس عورت کا ولی ہوں اور اس نے میرے مشورے کے بغیر شادی کی۔ عمر نے اس نکاح کو فسخ کر دیا، جبکہ وہ آدمی اس سے ہم بستری کر چکا تھا۔ فرمایا: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کا نکاح باطل ہے۔ اور اگر مرد نے اس سے ہم بستری کی تو اس کے لیے مہرِ مثل ہے“، اس کے بدلے جو اس نے اس سے حاجت پوری کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے مطابق جو آپ نے ایسی عورت کے لیے کیا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1141]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج والجزء المرفوع مرسل: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (4079). وعبد الرزاق (10484) وابن ابي شيبة (15941).»
حدیث نمبر: 1142
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: جَمَعَتِ الطَّرِيقُ رُفْقَةً فِيهِمُ امْرَأَةٌ ثَيِّبٌ فَوَلَّتْ رَجُلًا مِنْهُمْ أَمْرَهَا فَزَوَّجَهَا رَجُلًا، فَجَلَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ وَرَدَّ نِكَاحَهَا.
عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ دورانِ سفر ایک قافلہ اکٹھا ہو گیا اور ان میں ایک عورت بیوہ تھی، اس نے ان میں سے ایک آدمی کو اپنا ولی بنایا اور اس نے اس کا دوسرے آدمی سے نکاح کرا دیا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح کرنے اور کروانے والے کو کوڑے لگوائے اور اس نکاح کو فسخ کر دیا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1142]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان عكرمة بن خالد لم يسمع من عمر بن الخطاب اخرجه البيهقي: 7/ 111 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4072) - والدارقطني: 3/ 225 - وعبد الرزاق (10486) وابن ابي شيبة (15936).»
حدیث نمبر: 1143
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدٍ: أَنَّ عُمَرَ رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ.
عبدالرحمن بن معبد سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے نکاح کو باطل قرار دیا جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه فان عبد الرحمن بن معبد لم يسمع من عمر بن الخطاب اخرجه البيهقی: 7/ 111 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4072) - وعبد الرزاق (10485) . وسعيد بن منصور (575).»
حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ: هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، فَلَا أُجِيزُهُ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
ابوالزبیر نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے نکاح کا معاملہ لایا گیا جس میں صرف ایک مرد اور ایک عورت گواہ تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ خفیہ نکاح ہے، اور میں اسے جائز قرار نہیں دیتا، اور اگر میں پہلے اسے بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان ابا الزبير لم يسمع من عمر اخرجه البيهقي: 7 / 126 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4103).»