صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ اعْتِزَالِ الْحُيَّضِ الْمُصَلَّى:
باب: حائضہ عورتیں عیدگاہ سے علیحدہ رہیں۔
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ:" أُمِرْنَا أَنْ نَخْرُجَ فَنُخْرِجَ الْحُيَّضَ وَالْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَوِ الْعَوَاتِقَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلْنَ مُصَلَّاهُمْ".
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن ابراہیم ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حکم تھا کہ حائضہ عورتوں، دوشیزاؤں اور پردہ والیوں کو عیدگاہ لے جائیں ابن عون نے کہا کہ یا (حدیث میں) پردہ والی دوشیزائیں ہے البتہ حائضہ عورتیں مسلمانوں کی جماعت اور دعاؤں میں شریک ہوں اور (نماز سے) الگ رہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 981]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ”عید کے لیے خود بھی نکلیں اور حائضہ، نوجوان اور پردہ نشین عورتوں کو بھی نکالیں“ (راوی حدیث ابن عون نے کہا کہ پردہ نشین نوجوان عورتیں) چنانچہ حائضہ عورتیں مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعاؤں میں شریک ہوتی تھیں، البتہ نماز پڑھنے کی جگہ سے علیحدہ رہتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة