سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. باب فِي النَّبْلِ يُدْخَلُ بِهِ الْمَسْجِدُ
باب: تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2586
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ" أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا جو مسجد میں تیر بانٹ رہا تھا کہ جب وہ ان تیروں کو لے کر نکلے تو ان کی پیکان پکڑے ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2586]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا جو مسجد میں تیروں کا صدقہ تقسیم کرنے جا رہا تھا کہ ”وہ جب ان تیروں کو لے کر چلے تو پھلوں کی طرف سے پکڑے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر 34 (2614)، (تحفة الأشراف: 2919)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 66 (451)، والفتن 7 (7073)، سنن النسائی/المساجد 26 (717)، سنن ابن ماجہ/الأدب 51 (3777)، مسند احمد (3/308، 350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2614)
حدیث نمبر: 2587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ كَفَّهُ أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے“ یا فرمایا: ”مٹھی میں دبائے رہے“، یا یوں کہا کہ: ”اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2587]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو چاہیے کہ انہیں ان کے پھلوں کی طرف سے پکڑ کر رکھے۔“ یا فرمایا: ”انہیں اپنی مٹھی سے پکڑے رہے۔“ یا فرمایا: ”انہیں اپنی مٹھی سے پکڑے رہے کہ کہیں کسی مسلمان کو نہ لگ جائیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 67 (452)، والفتن 6 (7075)، صحیح مسلم/البر (2615)، سنن ابن ماجہ/الأدب 51 (3778)، (تحفة الأشراف: 9039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/391، 392، 397، 410، 413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7075) صحيح مسلم (2515)