السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
135. (بَابُ أَحْكَامِ مُبَادَلَةِ الْأَشْيَاءِ بِجِنْسِهَا)
(ہم جنس اشیاء کے تبادلے کے احکام)
حدیث نمبر: 211
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَرْزُقُهُمْ طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ فَيَسْتَطِيبُونَ فَيَأْخُذُونَ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ يَبْلُغْنِي مَا تَصْنَعُونَ؟!" قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَرْزُقُنَا طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ فَنَسْتَطِيبُ فَنَأْخُذُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دِينَارٌ بِدِينَارٍ وَدِرْهَمٌ بِدِرْهَمٍ وَصَاعُ تَمْرٍ بِصَاعِ تَمْرٍ وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ لا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھانے کے لیے کھجوریں دیتے جو ناقص ہوتیں (کیونکہ میسر ہی وہ تھی) تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صاع کے بدلے ایک صاع اچھے والی لے لیتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے سودے کے متعلق معلوم ہوا تو ہم سے پوچھا: ”ایسا ہی ہے؟“ ہم نے کہا: ”آپ کی طرف سے اعلی قسم کی کھجوریں ہمارے حصے نہ آئی تھیں تو ہم نے دو صاع دے کر ایک صاع لینے کا سودا کیا“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دینار ایک دینار کے بدلے میں اور ایک درہم ایک درہم کے بدلے میں ہی ہوتا ہے اور ایک صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں ہی اور ایک صاع جو ایک صاع جو کے ہی عوض ہے (وزن کے اعتبار سے) دونوں میں کوئی فضیلت نہیں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ فِي الْبُيُوعِ/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب بيع من التمر، رقم: 2080، صحیح مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلا بمثل، رقم: 1593 .»