🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

183. (بَابُ كَفَّارَةِ الْجِمَاعِ فِي الصَّوْمِ)
(روزے میں ہمبستری کا شرعی کفارہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟" قَالَ: لا قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لا قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لا أَجِدُهُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ"، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَرَقُ الْمِكْيَالُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَمَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تجھے کس چیز نے ہلاک کیا؟ کہنے لگا روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کر لی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ کہنے لگا نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ کے مسلسل روزوں کی استطاعت ہے؟ کہنے لگا نہیں رکھ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہو؟ کہنے لگا نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، وہ ایسے ہی بیٹھا تھا کہ ایک ٹوکری کھجوروں کی آگئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جا کر صدقہ کر دو، تو کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ان پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کھجوروں کا کوئی محتاج نہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں، پھر فرمایا: جا یہ ٹوکرا اپنے عیال کو کھلا دے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذَانِ/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، کفارات الايمان، باب قوله تعالى قد فرض الله لكم الخ، رقم: 6709، صحیح مسلم، باب تغليظ تحريم الجماع في نهار ...... الخ، رقم: 1111»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 287
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقَالَ: إِنِّي لا أَجِدُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقَ بِهِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" كُلْهُ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رمضان میں روزہ (جماع سے) توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ کے طور پر غلام آزاد کرنے یا دو ماہ کے روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، وہ آدمی کہنے لگا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکری کھجور آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لے لو اس کا صدقہ کر دو، تو کہنے لگا مجھ سے بڑا ان کا کوئی ضرورت مند نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے حتی کہ داڑھیں مبارک عیاں ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہی کھا لے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذَانِ/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الصوم، باب اذا جامع في رمضان ولم يكن ...... الخ، رقم: 1936»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ صِيَامَ شَهْرَيْنِ، أَوْ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے رمضان میں روزہ توڑا تھا کہ غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذَانِ/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ، برقم: 287»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلا يَرْفُثْ وَلا يَجْهَلْ فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ". وَزَادَ أَبُو الزِّنَادِ فِيهِ:" وَإِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الطَّعَامِ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہو تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ جہالت والا کوئی کام کرے اگر اسے کوئی گالم گلوچ کرے تو اسے کہے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے میں روزہ دار ہوں۔ ابو الزناد رحمہ اللہ نے اتنا اضافہ کیا کہ جب تمہارا کوئی بندہ کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو کہے میں روزے سے ہوں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذَانِ/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الصيام، باب حفظ اللسان للصائم، رقم: 1151، سنن ابی داؤد، الصوم، باب الغيبة للصائم، رقم: 2363»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں