سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. باب فِي سَلِّ السُّيُوفِ عِنْدَ اللِّقَاءِ
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت تلوار نکال لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ نَجِيحٍ وَلَيْسَ بِالْمَلْطِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ".
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”جب وہ (دشمن) تم سے قریب ہو جائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ۱؎ تلوار نہ سونتنا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2664]
سیدنا مالک بن حمزہ ابی اسید الساعدی اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (ابو اسید مالک بن ربیعہ انصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر والے دن فرمایا: ”جب وہ تمہارے قریب آ جائیں (اور تمہاری زد میں ہوں) تب ان پر تیر مارنا اور تلوار بھی اسی وقت سونتنا جب وہ تم پر چھا جائیں۔“ (اور تلوار کی مار پر ہوں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11190) (ضعیف)» (اس کے راوی اسحاق مجہول، اور مالک بن حمزہ لین الحدیث ہیں، نیز پچھلی حدیث کے مضمون سے اس کے مضمون میں فرق ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی تلوار کی مار پر نہ آجائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن نجيح : مجهول (تق : 387)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
إسناده ضعيف
إسحاق بن نجيح : مجهول (تق : 387)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97