🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

119. باب فِي الْمُبَارَزَةِ
باب: مقابل یا حریف کو مقابلہ میں آنے کی دعوت دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2665
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: تَقَدَّمَ يَعْنِي عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَتَبِعَهُ ابْنُهُ، وَأَخُوهُ فَنَادَى مَنْ يُبَارِزُ فَانْتَدَبَ لَهُ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكُمْ إِنَّمَا أَرَدْنَا بَنِي عَمِّنَا فقال النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا حَمْزَةُ قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْحَارِثِ"، فَأَقْبَلَ حَمْزَةُ إِلَى عُتْبَةَ وَأَقْبَلْتُ إِلَى شَيْبَةَ وَاخْتُلِفَ بَيْنَ عُبَيْدَةَ والْوَلِيدِ ضَرْبَتَانِ فَأَثْخَنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، ثُمَّ مِلْنَا عَلَى الْوَلِيدِ فَقَتَلْنَاهُ وَاحْتَمَلْنَا عُبَيْدَةَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ آگے آیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا (ولید) اور اس کا بھائی اس کے پیچھے آئے، پھر عتبہ نے آواز دی: کون میرے مقابلے میں آئے گا؟ تو انصار کے کچھ جوانوں نے اس کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے اسے بتایا (کہ ہم انصار کے لوگ ہیں) اس نے (سن کر) کہا: ہمیں تمہاری ضرورت نہیں، ہم اپنے چچا زادوں کو (مقابلہ کے لیے) چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ! تم کھڑے ہو، علی! تم کھڑے ہو، عبیدہ بن حارث! تم کھڑے ہو“، تو حمزہ رضی اللہ عنہ عتبہ کی طرف بڑھے، اور میں شیبہ کی طرف بڑھا، اور عبیدہ اور ولید (آپس میں بھڑے تو دونوں) کو دو دو زخم لگے، دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو نڈھال کر دیا، پھر ہم ولید کی طرف مائل ہوئے اور اسے قتل کر دیا، اور عبیدہ کو اٹھا کر لے آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2665]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (جنگ بدر میں) عتبہ بن ربیعہ سامنے آیا اور اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور بھائی بھی آ گئے تو اس نے للکارا: ”کون ہے جو مقابلے میں آئے؟“ اس پر انصاری جوان سامنے آئے۔ اس نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ تو انہوں نے اس کو بتا دیا (کہ ہم انصاری جوان ہیں) اس نے کہا: ”ہمیں تم سے کوئی مطلب نہیں۔ ہم اپنے چچا زاد چاہتے ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو، اے حمزہ! اٹھو، اے علی! اٹھو، اے عبیدہ بن حارث!“ چنانچہ حمزہ رضی اللہ عنہ عتبہ کے مقابل ہوئے اور میں (علی رضی اللہ عنہ) شیبہ کے سامنے آیا۔ عبیدہ رضی اللہ عنہ اور ولید کے درمیان دو دو واروں کا مقابلہ ہوا اور ہر ایک کو ایک دوسرے سے چوٹیں لگیں (اور زخمی ہوئے) پھر ہم دونوں ولید پر چڑھ دوڑے اور اس کو قتل کر ڈالا اور عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اٹھا لائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10058)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/117) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة في السيرة لا بن ھشام (277/2) والسنن الكبري للبيهقي (9 / 131) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں