🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

134. باب الرُّخْصَةِ فِي الْمُدْرِكِينَ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمْ
باب: جوان قیدیوں کو الگ الگ رکھنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2697
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ وَعَلَيْهَا قِشْعٌ مَنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ"، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَادَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں، تو میں نے ایک تیر چلائی، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی، وہ کھال پہنے ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، میں نے کہا: اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، آپ خاموش ہو گئے، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، قسم ہے اللہ کی ۱؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، اور وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2697]
سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (جہاد کے لیے) روانہ ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے بنو فزارہ کے ساتھ جہاد کیا اور ہر طرف سے ان پر چڑھائی کی۔ میں نے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، ان میں بچے تھے اور عورتیں بھی۔ میں نے ایک تیر مارا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے، میں انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جس نے ایک پرانی کھال اوڑھی ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی بطور نفلِ غنیمت مجھے دے دی۔ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: اے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دے۔ میں نے عرض کیا: قسم اللہ کی! وہ تو مجھے بہت پسند آئی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ جب اگلا دن ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: اے سلمہ! عورت مجھے ہبہ کر دے، تیرے باپ کی بھلائی ہو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا، مگر وہ آپ کی ہوئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل مکہ کی طرف بھیج دیا جبکہ کچھ مسلمان قیدی ان کے قبضے میں تھے، تو اس عورت کو بطور فدیہ ان کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 14 (1755)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 32 (2846)، (تحفة الأشراف: 4515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46، 47، 51) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «لله أبوك» کے الفاظ ہیں یہ جملہ قسم کے حکم میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1755)
مشكوة المصابيح (3948)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں