🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
134. باب الرخصة في المدركين يفرق بينهم
باب: جوان قیدیوں کو الگ الگ رکھنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2697
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ وَعَلَيْهَا قِشْعٌ مَنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ"، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَادَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں، تو میں نے ایک تیر چلائی، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی، وہ کھال پہنے ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، میں نے کہا: اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، آپ خاموش ہو گئے، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، قسم ہے اللہ کی ۱؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، اور وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 14 (1755)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 32 (2846)، (تحفة الأشراف: 4515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46، 47، 51) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «لله أبوك» کے الفاظ ہیں یہ جملہ قسم کے حکم میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1755)
مشكوة المصابيح (3948)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥إياس بن سلمة الأسلمي، أبو بكر، أبو سلمة
Newإياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← إياس بن سلمة الأسلمي
صدوق يغلط
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← هاشم بن القاسم الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4573
هب لي المرأة فقلت يا رسول الله والله لقد أعجبتني وما كشفت لها ثوبا ثم لقيني رسول الله من الغد في السوق فقال لي يا سلمة هب لي المرأة لله أبوك فقلت هي لك يا رسول الله فوالله ما كشفت لها ثوبا فبعث بها رسول الله
سنن أبي داود
2697
هب لي المرأة لله أبوك فقلت يا رسول الله والله ما كشفت لها ثوبا وهي لك فبعث بها إلى أهل مكة وفي أيديهم أسرى ففاداهم بتلك المرأة
سنن ابن ماجه
2846
هبها لي فوهبتها له فبعث بها ففادى بها أسارى من أسارى المسلمين كانوا بمكة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2697 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2697
فوائد ومسائل:

مجاہد کو اضافی انعامات (نفل غنیمت) خمس نکالنے سے پہلے دیئے جاتے ہیں۔


قیدی اگر بڑی عمر کے ہوں۔
تو قریبی رشتہ داروں میں بھی تفریق کی جا سکتی ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کا مال اس کی ولی رضا مندی کے بغیر لینا پسند نہ کرتے تھے۔


لونڈیوں سے مباشرت جائز ہے۔
خواہ مشرک ہی ہوں۔
مگر استبراء (ایک حیض آنے) کے بعد۔


جس طرح بھی بن پڑے مسلمان قیدیوں کو آزاد کرایا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2697]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2846
(جنگی) قیدیوں کو فدیہ میں دینے کا بیان۔
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل (انعام) دی، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی، اور پوستین پہنے ہوئی تھی، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی شان، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا! یہ لونڈی مجھے دے دو، میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی، چ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2846]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال غنیمت تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے تاہم بہتر کارکردگی دکھانے والوں کو اس کے علاوہ بھی انعام دیا جاسکتا ہے اسے نفل کہتے ہیں۔

(2)
امام (خلیفہ یا کمانڈر)
کسی مجاہد کو دیا ہوا انعام واپس لے سکتا ہے جب اسے واپس لینے میں کوئی بڑی مصلحت ہو۔

(3)
مسلمانوں قیدیوں کو چھڑانے کے لیے کافر قیدیوں کو آزاد کرنا جائز ہے یعنی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ شرعاً درست ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2846]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4573
حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بنو فزارہ سے جنگ کرنے کے لیے نکلے، ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے امیر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا، جب ہمارے اور پانی کے درمیان ایک گھڑی کی مسافت رہ گئی تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیں رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا، پھر انہوں نے سخت حملہ کیا اور پانی پر پہنچ گئے، اس پر قابل قتل لوگوں کو قتل کیا اور (دوسروں کو) قیدی بنایا اور میں ان لوگوں کو دیکھ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4573]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
شن الغاره:
ان پر زوردار ہر طرف سے حملہ کیا۔
عنق:
جماعت۔
(2)
قشع:
پرانی پوستین (چمڑے کی قمیص)
۔
(3)
ماكشف لها ثوبا:
یعنی میں اس سے لطف اندوز نہیں ہو یا اس سے تعلقات قائم نہیں کیے۔
(4)
لله ابوك:
جب بیٹا قابل تعریف کام کرے تو تعریف و توصیف کے لیے یہ کلمہ استعمال کرتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
بنو فزارہ سے اس جنگ کے امیر لشکر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے،
لیکن حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی اس علاقہ سے آشنا ہونے کی بناء پر بطور امیر ساتھ تھے،
اس لیے اس کو غزوہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے بھی تعبیر کر دیا جاتا ہے۔
غزوہ 7ھ میں پیش آیا اور اس کے قیدیوں سے ایک خوبصورت لڑکی بطور انعام حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے مفاد اور بہتری کے لیے اسے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مانگ لیا تاکہ اس کو مسلمان قیدیوں کے فدیہ کے طور پر دے کر ان کو چھڑایا جا سکے،
جس سے معلوم ہوا مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے لیے بطور فدیہ کافر قیدی دینا جائز ہے اور بالغ بیٹی کو ماں سے الگ کرنا جائز ہے اور یہ اتفاقی اجماعی مسئلہ ہے اور یہ لڑکی اہل مکہ کو دی گئی اور وہاں حزن بن ابی وھب کے ہاتھ لگی،
کیونکہ وہ اس وقت کافر تھا،
فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4573]

Sunan Abi Dawud Hadith 2697 in Urdu