🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

151. باب فِيمَنْ جَاءَ بَعْدَ الْغَنِيمَةِ لاَ سَهْمَ لَهُ
باب: جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2723
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: لَا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ يَا أَبَانُ وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا: تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابان تم بیٹھ جاؤ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2723]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ سے نجد کی جانب ایک جہادی مہم پر روانہ کیا۔ پس ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر میں پہنچے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا تھا۔ ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے گھوڑوں کے تنگ (زین کسنے کے چوڑے تسمے، یا لگام) کھجور کی چھال کے تھے۔ تو ابان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی عنایت فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہیں مت دیجیے۔ ابان رضی اللہ عنہ بولے: «أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ!» تم یہ کہہ رہے ہو اور (کہاں سے) ہمارے پاس ضال (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر آئے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابان بیٹھ جاؤ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غنیمت میں سے کچھ نہ دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 28 (2827)، والمغازي 38 (4237)، (تحفة الأشراف: 14280) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
إسماعيل بن عياش صرح بالسماع (كما في تغليق التعليق 4/135) وتابعه عبد الله بن سالم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، وَسَأَلَهُ إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، فَحَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ الْقُرَشِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَهَا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُسْهِمَ لِي فَتَكَلَّمَ بَعْضُ وُلْدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: يَا عَجَبًا لِوَبْرٍ قَدْ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَالٍ يُعَيِّرُنِي بِقَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى يَدَيَّ، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَؤُلَاءِ كَانُوا نَحْوَ عَشَرَةٍ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَرَجَعَ مَنْ بَقِيَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ۱؎ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا: اللہ کے رسول! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا: ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2724]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینے پہنچا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، جس وقت کہ آپ نے اسے فتح کیا تھا۔ میں نے درخواست کی کہ آپ مجھے بھی عنایت فرمائیں۔ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے بچوں میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے مت دیجیے۔ میں نے کہا: یہ ابن قوقل رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے۔ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: «يَا عَجَبًا لِوَبْرٍ ضَالٍّ» کتنی حیرت کی بات ہے ایک وبْر (پہاڑی جانور) پر جو بھٹک کر (پہاڑ) کی چوٹی سے ہمارے پاس اتر آیا ہے اور مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جس کو اللہ عزوجل نے میرے ہاتھوں عزت بخشی (اسے شہادت نصیب ہوئی) اور مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ لوگ تقریباً دس آدمی تھے۔ ان میں سے چھ شہید ہو گئے اور باقی واپس لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14280) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلی والی حدیث میں ہے کہ ابان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ ان کے لئے حصہ لگائیں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لئے حصہ لگانے کی درخواست کی تھی دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض ہے صحیح یہ ہے کہ دونوں ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے حصہ لگانے کی درخواست کی تھی، اور اپنے اپنے نظریہ کے مطابق دوسرے کو نہ دینے کا مشورہ دیا تھا، ابان رضی اللہ عنہ کو اس لئے کہ ابن قوقل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا تھا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس لئے کہ ابھی مسلمان ہوئے تھے۔
۲؎: انہوں نے ابن قوقل رضی اللہ عنہ کو اس وقت قتل کیا تھا جب وہ کافر تھے، ابن قوقل کو اس قتل کی وجہ سے شہادت کی عزت ملی، اس وقت ابن قوقل رضی اللہ عنہ نے اگر ابان بن سعید کو قتل کر دیا ہوتا تو وہ جہنم میں ڈالے جاتے اور ذلیل ہوتے، لیکن اللہ نے ایمان کی دولت دے کر انہیں اس ذلت سے بچا دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4237)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2725
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا، أَوْ قَالَ فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا، جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ فَأَسْهَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حبشہ سے) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت سے) ہمارے لیے حصہ لگایا، یا ہمیں اس میں سے دیا، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2725]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حبشہ سے واپس آئے (اور خیبر پہنچے) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو بھی حصہ دیا یا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی اس میں سے کچھ دیا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر سے غائب رہنے والوں میں سے کسی کو بھی کچھ نہ دیا تھا۔ صرف انہی لوگوں کو دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے مگر ہم لوگ جو کشتی میں سوار ہو کر آئے تھے۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو دیگر مجاہدین کے ساتھ حصہ دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فرض الخمس 15 (3136)، والمناقب 37 (3876)، والمغازي 38 (4230)، سنن الترمذی/السیر 10 (1559)، (تحفة الأشراف: 9049)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 41 (2502)، مسند احمد (4/394، 405، 412) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو مال غنیمت میں سے آپ نے جو حصہ دیا اس کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں: (۱) یہ حصہ آپ نے خمس سے دیا تھا، (۲) یہ لوگ تقسیم سے پہلے پہنچے تھے اس لئے انہیں منجملہ مال غنیمت سے دیا گیا، (۳) لشکر کی رضامندی سے ایسا کیا گیا (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4233) صحيح مسلم (2502)
مشكوة المصابيح (4010)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2726
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ: إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ، وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنِّي أُبَايِعُ لَهُفَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، وَلَمْ يَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا: بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ۱؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2726]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر والے دن کھڑے ہوئے اور فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ، اللہ کے کام سے اور رسول اللہ کے کام سے گئے ہیں اور میں ان کی بیعت لے رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے ان کا حصہ نکالا، اور ان کے سوا غائب رہنے والوں میں سے کسی کو کچھ نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6684) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے، کیونکہ آپ کی اہلیہ رقیہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ان ایام میں سخت بیمار تھیں اسی وجہ سے ان کی دیکھ ریکھ کے لئے انہیں رکنا پڑ گیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4031)
وله طريق آخر صححه الحاكم (3/98 وسنده حسن) ووافقه الذھبي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں