🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

181. باب فِي حَمْلِ السِّلاَحِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے ملک میں ہتھیار جانے دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ رَجُلٍ مِنَ الضِّبَابِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي، يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ، قُلْتُ: مَا كُنْتُ أَقِيضُهُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ قَالَ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
ذوالجوشن ابوشمر ضبابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنے قرحاء نامی گھوڑے کا بچھڑا لے کر آیا، اور میں نے کہا: محمد! میں آپ کے پاس قرحا کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال میں رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم بدر کی زرہوں میں سے ایک زرہ اس کے بدلے میں لینا چاہو تو میں اسے لے لوں گا، میں نے کہا: آج کے دن تو میں اس کے بدلے گھوڑا بھی نہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2786]
بنو ضباب کے ایک شخص ذی الجوشن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اہل بدر سے فارغ ہو گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھوڑے کا ایک بچھیرا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اے محمد! میں آپ کے پاس ابن قرحاء (ایک بچھیرا) لے کر آیا ہوں، یہ آپ اپنے لیے لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں، لیکن اگر تم چاہو تو تمہیں اس کے بدلے بدر کی منتخب زرہوں میں سے کوئی دے دوں، تو کر سکتا ہوں۔ میں نے کہا: آج تو میں اس کے بدلے میں کوئی گھوڑی بھی نہیں لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے بھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3545)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/484) (ابواسحاق اورذی الجوشن کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ذی الجوشن اس وقت مسلمان نہ تھے کافروں کے ملک میں رہتے تھے اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زرہ دینا منظور کیا اور مفت میں کسی مشرک کا تعاون گوارہ نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں