سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
182. باب فِي الإِقَامَةِ بِأَرْضِ الشِّرْكِ
باب: شرک کی سر زمین میں رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنُ سُفْيان، حَدَّثَنَا يَحْيى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَر بْنُ سَعْدِ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُب،حدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُب، أَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَامَعَ المُشْرِكَ، وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں «أما بعد»، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2787]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے (اپنے ایک خطبے میں) بیان کیا، اما بعد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مشرک کی صحبت اختیار کرے اور اس کے ساتھ رہائش رکھے تو وہ بھی اسی کی طرح ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4621)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 42 (1605) (حسن لغیرہ) (سند میں متعدد ضعیف ہیں لیکن دوسرے طریق جس کی تخریج حاکم نے کی ہے سے تقویت پاکر یہ حسن ہے(المستدرک 1/141-142) (ملاحظہ ہو الصحیحة: 2330)»
وضاحت: ۱؎: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تغلیظاً اور تشدیداً فرمایا تاکہ آدمی مشرک کی صحبت سے بچے یا مراد یہ ہے کہ جب اس کے ساتھ رہے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا کیونکہ صحبت کا اثر یقینی طور پر پڑتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خبيب : مجهول،وجعفر : ضعيف كما
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
إسناده ضعيف
خبيب : مجهول،وجعفر : ضعيف كما
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100