🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ
باب: دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2821
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرْعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے (بانس کی کھپچی) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے (کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا (یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2821]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کل ہم دشمن سے ملیں گے، لیکن ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو کیا ہم پتھر سے یا لاٹھی کے تیز پھٹے سے ذبح کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھرتی دکھاؤ، یا جلدی کرو، جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، لیکن دانت یا ناخن نہ ہو، میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشی لوگوں کی چھری ہے۔ اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے جلدی کی، انہیں کچھ غنیمتیں مل گئی تھیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پیچھے تھے، انہوں نے دیگچے آگ پر رکھ دیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگچوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہیں الٹ دیا گیا اور ان میں (غنیمتیں) تقسیم کیں، تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر کیا۔ اور جماعت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا، ان کے پاس گھوڑے نہیں تھے، تو ایک آدمی نے اس کو تیر مارا اور اللہ نے اس کو روک لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان جانوروں میں بھی بدک کر بھاگنے والے ہوتے ہیں جیسے کہ دیگر وحشی (جنگلی جانور)، تو جو ان میں سے اس طرح سے کرے، اس کے ساتھ اسی طرح کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشرکة 3 (2488)، 16 (2507)، الجھاد 191 (3075)، الذبائح 15 (5498)، 18 (5503)، 23 (5509)، 36 (5543)، 37 (5544)، صحیح مسلم/الأضاحي 4 (1968)، سنن الترمذی/الصید 19 (1492)، السیر 40 (1600)، سنن النسائی/الصید 17 (4302)، الضحایا 15 (4396)، 26 (4414، 4415)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 9 (3183)، (تحفة الأشراف: 3561)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 464، 4/140، 142) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ایسی ہی کوئی صورت کر کے جلدی ذبح کر لو اور گوشت کھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5498) صحيح مسلم (1968)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2822
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَحَمَّادًا حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2822]
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خرگوش شکار کیے تو میں نے ان کو پتھر سے ذبح کیا۔ پھر میں نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید 25 (4318)، والضحایا 17 (4404)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3244)، (تحفة الأشراف: 11224)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4318 وسنده حسن) وابن ماجه (3175 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2823
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ، فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.
بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2823]
بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد کی ایک گھاٹی میں دودھ دینے والی اونٹنی چرایا کرتا تھا، تو اس اونٹنی کو موت نے آ لیا اور اسے کوئی چیز نہ ملی جس سے وہ اسے نحر کرتا، پھر اس نے ایک میخ لی اور اسے اس کے لبہ (نرخرا، سینے کے پاس نحر کرنے کی جگہ) میں گھونپ دیا حتیٰ کہ اس کا خون بہہ گیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس کے متعلق سب کچھ بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15641)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الذبائح 2 (3) مسند احمد (4/36، 5/530) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4096)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2824
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا، وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا، فَقَالَ: أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے (اس شکار کو) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر (اللہ کا نام لے کر) جس چیز سے چاہے خون بہا دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2824]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرمائیے کہ ہم میں سے کوئی شکار کرتا ہے اور اس کے پاس چھری نہیں ہوتی، تو کیا وہ اسے پتھر سے یا لکڑی کے تیز پھٹے سے ذبح کر لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خون بہاؤ، جس سے بھی تم چاہو اور اللہ کا نام ذکر کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید20 (4309)، الضحایا 18(4406)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 5 (3177)، (تحفة الأشراف: 9875)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 258، 377) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4081)
أخرجه النسائي (4309 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں