🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ
باب: جائیداد وقف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُوَرَّثُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَزَادَ عَنْ بِشْرٍ، وَالضَّيْفِ ثُمَّ اتَّفَقُوا لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ"، زَادَ عَنْ بِشْرٍ قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو زمین کی اصل (ملکیت) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہو گی (بلکہ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں مہمان کا اضافہ ہے، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: جو اس کا والی ہو گا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں: مال جوڑنے والا نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2878]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ان کے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوئے اور عرض کیا: مجھے زمین ملی ہے اور اس جیسا نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اس کے اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس (کی آمدنی) کو صدقہ کر دو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا اس شرط کے ساتھ کہ اس کے اصل کو بیچا نہیں جائے گا، ہبہ نہیں کیا جائے گا اور نہ وراثت ہی میں وہ تقسیم ہو گی اور اس کی آمدنی فقراء، قرابت داروں، گردنوں کے چھڑانے، جہاد اور مسافروں کے لیے خرچ ہو گی۔ (جناب مسدد کے استاد) بشر نے مہمانوں کے لیے بھی بیان کیا۔ اور اس کے متولی پر کوئی گناہ نہیں کہ اس (آمدنی) میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور دوست کو کھلائے، لیکن مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ (جناب مسدد کے استاد) بشر نے کہا: محمد (بن عون) کے الفاظ ہیں: «غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا» (یعنی مال جمع کرنے والا نہ ہو۔) [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشروط 19 (2737)، والوصایا 22 (2764)، 28 (2772)، 32 (2777)، صحیح مسلم/الوصایا 4 (1632)، سنن الترمذی/الأحکام 36 (1375)، سنن النسائی/الإحباس 1 (3629)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 4 (2396)، (تحفة الأشراف: 7742)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/55، 125) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ پہلا اسلامی وقف ہے جس کی ابتداء عمر رضی اللہ عنہ کی ذات سے ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2772) صحيح مسلم (1633)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2879
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بِنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فِي ثَمْغٍ فَقَصَّ مِنْ خَبَرِهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَافِعٍ قَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ، قَالَ: وَسَاقَ الْقِصَّةَ قَالَ: وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ وَشَهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَرْقَمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ، أَنَّ ثَمْغًا، وَصِرْمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ الَّتِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ لَا يُبَاعَ وَلَا يُشْتَرَى يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى وَلَا حَرَجَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ إِنْ أَكَلَ أَوْ آكَلَ أَوِ اشْتَرَى رَقِيقًا مِنْهُ.
یحییٰ بن سعید سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ (اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا) کے متعلق لکھا ہے، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے (باغ کے) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے (یعنی مر جاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رہیں گی، حفصہ کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہو گا وہ متولی ہو گا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2879]
جناب یحییٰ بن سعید نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ (وقف) کے متعلق بیان کیا اور کہا: مجھے یہ تحریر ان کے پڑپوتے عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے نقل کر کے دی «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» یہ تحریر اللہ کے بندے عمر رضی اللہ عنہ نے ثمغ والی جائیداد کے بارے میں لکھی ہے۔ اور مذکورہ بالا روایت نافع کی مانند بیان کی، اس میں تھا کہ متولی مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ اس کے لفظ تھے «غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا» مال جمع کرنے والا نہ ہو اور جو پھل زائد رہے تو وہ سوالیوں اور ناداروں کا حق ہے اور پورا قصہ بیان کیا، کہا: اور اگر ثمغ کا متولی چاہے تو اس کے پھل (آمدنی) سے کام کاج کے لیے غلام بھی خرید سکتا ہے۔ اور (ایک دوسری تحریر اس کو) معیقیب رضی اللہ عنہ نے قلم بند کیا اور جناب عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے گواہی دی «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» یہ وصیت نامہ ہے جو اللہ کے بندے، امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے کہ اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے (وفات پا جاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع والی جائیداد اور وہ غلام جو وہاں ہیں اور خیبر (کی غنیمت سے حاصل ہونے) والے سو حصے اور اس میں جو غلام ہیں اور وہ سو حصے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی (قمر) میں (اپنے اہل کے) خرچ اخراجات کے لیے چھوڑے ہیں ان کی متولی (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا ہوں گی جب تک یہ حیات رہیں۔ ان کے بعد ان کے اہل میں صاحب رائے اس کے متولی ہوں گے اور شرط یہ ہے کہ اس جائیداد کو بیچا نہیں جائے گا، خریدا نہیں جائے گا۔ متولی اپنی سمجھ کے مطابق سوالیوں، ناداروں اور قرابت داروں میں خرچ کرے گا۔ اور اس کے متولی پر کوئی حرج نہیں کہ خود کھائے اور (آنے جانے والے مہمانوں کو) کھلائے یا غلام خریدے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10589) (صحیح)» ‏‏‏‏ (بطور وجادہ کے یہ روایت صحیح ہے، وجادہ کا مطلب یہ ہے کہ خاندان کی کتاب میں ایسا لکھا ہوا پایا، وجادہ کے راوی اگر ثقہ ہوں اور صاحب تحریر کی تحریر پہچانتے ہوں تو ایسی روایت بھی صحیح ہوتی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح وجادة
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (2878)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں