سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی جانب سے صدقہ کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أُرَاهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے): ایک صدقہ جاریہ ۱؎، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ۲؎، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2880]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جب فوت ہو جاتا ہے تو تین صورتوں کے علاوہ اس کے سب عمل منقطع ہو جاتے ہیں (اور وہ یہ ہیں) جاری رہنے والا صدقہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14026)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الوصایا 3 (1631)، سنن الترمذی/الأحکام 36 (1376)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3681)، مسند احمد (2/316،350، 372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسی خیرات جس کا فائدہ ہمیشہ جاری رہے مثلا مسجد، مدرسہ، کنواں وغیرہ۔
۲؎: مثلاً دینی تعلیم دینا،کتاب و سنت کے مطابق کتابیں و تفسیریں وغیرہ لکھ جانا۔
۲؎: مثلاً دینی تعلیم دینا،کتاب و سنت کے مطابق کتابیں و تفسیریں وغیرہ لکھ جانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1631)