🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ
باب: جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2887
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ، قَالَ: أَحْسِنْ، قُلْتُ الشَّطْرَ، قَالَ: أَحْسِنْ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ: يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2887]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بیمار ہو گیا اور میری سات بہنیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر پھونک ماری (دم کیا) تو مجھے افاقہ ہو گیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے تہائی مال کی وصیت نہ کر جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان کر۔ میں نے کہا: آدھا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور مجھے چھوڑ دیا اور فرمایا: اے جابر! میں نہیں سمجھتا کہ تم اس بیماری سے وفات پاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ہے اور تیری بہنوں کا حق بیان فرما دیا ہے، ان کے لیے دو تہائی خاص کیا ہے۔ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ آیت کریمہ ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2977)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6325)، مسند احمد (3/372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد كثيرة منھا الحديث السابق (2886)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2888]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی کلالہ کے بارے میں ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المغازي 66 (4364)، والتفسیر 27 (4605)، 3 (4656)، والفرائض 14 (6744)، صحیح مسلم/الفرائض 3 (1618)، (تحفة الأشراف: 1870)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (4346) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جو سورہ نساء کے اخیر میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4605) صحيح مسلم (1618)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ، فَمَا الْكَلَالَةُ؟ قَالَ:" تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ"، فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق: هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا، قَالَ: كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2889]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں، تو اس کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی توضیح میں) فرمایا: تجھے وہ آیت کافی ہے جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی ہے۔ (راوی ابوبکر کہتے ہیں) میں نے ابواسحٰق سے کہا: (کیا کلالہ وہ نہیں کہ) جو فوت ہو جائے اور نہ اولاد چھوڑ جائے اور نہ والد؟ انہوں نے کہا: علماء ایسے ہی کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفرائض 2 عن عمر (1617)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (3042)، (تحفة الأشراف: 1906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293، 295، 301) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورہ نساء کا آخری حصہ گرمی کے زمانہ میں نازل ہوا ہے اس لئے اسے آیت «صيف» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد عند مسلم (1617) وانظر الحديث السابق (2888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں