سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ
باب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْقِسْمَةِ، فَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَفِيمَا لَا تَمْلِكُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے دروازے کے اندر ہو گا ۱؎ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے (تقسیم میراث کی) بات چیت کرو (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں (ایسی قسم اور نذر لغو ہے)“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3272]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انصاریوں میں دو بھائیوں میں وراثت کا معاملہ تھا۔ ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: ”اگر تو نے مجھ سے دوبارہ تقسیم کی بات کی تو میرا سب مال کعبہ کے لیے وقف ہوا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کعبہ تیرے مال کا محتاج نہیں۔ اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے (تقسیم کے بارے میں) بات کر۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا تَمْلِكُ» ”رب تعالیٰ کی نافرمانی میں تیری کوئی قسم ہے، نہ نذر اور نہ قطع رحمی میں نذر ہے اور نہ اس چیز میں جس کا تو مالک نہیں۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10447) (ضعیف الإسناد)» (سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی کعبہ کے لئے وقف ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3443)
مشكوة المصابيح (3443)
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ان چیزوں میں نذر جائز ہے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہو اور قسم (قطع رحمی) ناتا توڑنے کے لیے جائز نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3273]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نذر نہیں سوائے اس کے جس میں اللہ کی رضا مقصود ہو اور نہ قطع رحمی میں قسم ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2192) (تحفة الأشراف: 8736) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديثين السابقين (2191، 2192)
انظر الحديثين السابقين (2191، 2192)
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ إِلَّا فِيمَا لَا يُعْبَأُ بِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3274]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں اور نہ اس میں قسم ہے اور نہ اللہ کی نافرمانی میں اور نہ قطع تعلقی میں۔ اور جس نے قسم کھائی ہو اور پھر اس کے خلاف دوسرے پہلو میں زیادہ خیر دیکھے تو چاہیے کہ قسم چھوڑ دے اور جو خیر ہو اس پر عمل کرے۔ بلاشبہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب احادیث میں یہی ہے کہ قسم کا کفارہ ادا کرے، مگر ان روایات میں (اس کے برعکس بیان ہوا ہے) جن کا کوئی اعتبار نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”بعد میں چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔“ اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس کی احادیث منکر (ازحد ضعیف) ہیں اور اس کا باپ غیر معروف ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الأیمان 16 (3823)، (تحفة الأشراف: 8754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن)» (اس روایت کا یہ جملہ «فإن تركها كفارتها» منکر ہے کیوں کہ یہ دیگر تمام صحیح روایات کے برخلاف ہے، صحیح روایات کا مستفاد ہے کہ کفارہ دینا ہو گا)
وضاحت: ۱؎: یعنی مرفوع ہیں۔
۲؎: ابوداود کا یہ کلام کسی اور حدیث کی سند کی بابت ہے، نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے۔
۲؎: ابوداود کا یہ کلام کسی اور حدیث کی سند کی بابت ہے، نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن إلا قوله ومن حلف فهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رواه النسائي (3823 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3273)
رواه النسائي (3823 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3273)