🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب اليمين في قطيعة الرحم
باب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ إِلَّا فِيمَا لَا يُعْبَأُ بِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأیمان 16 (3823)، (تحفة الأشراف: 8754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس روایت کا یہ جملہ  «فإن تركها كفارتها»  منکر ہے کیوں کہ یہ دیگر تمام صحیح روایات کے برخلاف ہے، صحیح روایات کا مستفاد ہے کہ کفارہ دینا ہو گا)
وضاحت: ۱؎: یعنی مرفوع ہیں۔
۲؎: ابوداود کا یہ کلام کسی اور حدیث کی سند کی بابت ہے، نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن إلا قوله ومن حلف فهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رواه النسائي (3823 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3273)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن الأخنس النخعي، أبو مالك
Newعبيد الله بن الأخنس النخعي ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن بكر الباهلي، أبو محمد، أبو حبيب، أبو وهب
Newعبد الله بن بكر الباهلي ← عبيد الله بن الأخنس النخعي
ثقة
👤←👥المنذر بن الوليد العبدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newالمنذر بن الوليد العبدي ← عبد الله بن بكر الباهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3823
لا نذر ولا يمين فيما لا تملك لا في معصية لا قطيعة رحم
سنن النسائى الصغرى
4616
ليس على رجل بيع فيما لا يملك
جامع الترمذي
1181
لا نذر لابن آدم فيما لا يملك لا عتق له فيما لا يملك لا طلاق له فيما لا يملك
سنن أبي داود
3274
لا نذر ولا يمين فيما لا يملك ابن آدم في معصية الله في قطيعة رحم من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليدعها وليأت الذي هو خير فإن تركها كفارتها
سنن أبي داود
2190
لا طلاق إلا فيما تملك لا عتق إلا فيما تملك لا بيع إلا فيما تملك لا وفاء نذر إلا فيما تملك
سنن أبي داود
3273
لا نذر إلا فيما يبتغى به وجه الله لا يمين في قطيعة رحم
سنن ابن ماجه
2047
لا طلاق فيما لا تملك
بلوغ المرام
926
لا نذر لابن آدم فيما لا يملك ولا عتق له فيما لا يملك ولا طلاق له فيما لا يملك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3274 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3274
فوائد ومسائل:
اس روایت میں (من خلف علی یمین)سے آخر تک کا حصہ ضعیف ہے۔
(علامہ البانی)اور جس کام پرقسم کھائی ہے۔
اسے ترک کرے تو کفارہ دینا راحج ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3274]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 926
طلاق کا بیان
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نذر کی کوئی حیثیت نہیں جس کا انسان مالک نہیں اور نہ ایسے غلام کا آزاد کرنا کوئی حیثیت رکھتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں اور نہ طلاق واقع ہو گی جو اس کے دینے والے کے اختیار میں نہ ہو۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے، یہ اس میں صحیح ترین ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 926»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في الطلاق قبل النكاح، حديث:2190، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1181.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک ہی نہیں اس میں مالکانہ اختیارات استعمال کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
ان اختیارات کا استعمال ناقابل تسلیم ہے۔
2. یہ حدیث دلیل ہے کہ اجنبی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی‘ مثلاً: ایک آدمی کسی دوسرے کی منکوحہ یا کسی غیر منکوحہ خاتون سے کہتا ہے کہ تو مطلقہ ہے اور وہی شخص بعد ازاں کسی وقت اسی عورت سے نکاح کرلیتاہے تو علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ عورت مطلقہ تصور نہیں ہوگی، لیکن کسی عورت کو اس طرح کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق، تواس صورت میں علماء و فقہاء کے تین اقول ہیں: ٭ امام شافعی‘ امام احمد‘ داود ظاہری رحمہم اللہ اور چند دیگر علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسی عورت مطلقہ نہیں ہوگی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بائیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ قول نقل کیا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہی حدیث ہے۔
٭ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسی عورت مطلقہ ہو جائے گی۔
٭ تیسرا قول امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے کہ اگر کسی خاص قبیلے یا شہر کی عورت سے کہے یا کسی دن یا مہینے کے ساتھ مخصوص کرے تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر عمومی طور پر کہے تو واقع نہیں ہوگی۔
غلام کو آزاد کرنے اور نذر ماننے کا حکم بھی اسی طرح ہے۔
ان اقوال میں سے اقرب الی الصواب پہلا قول ہی ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 926]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3823
قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
اردو حاشہ:
(1) ان چیزوں میں نذر اور قسم نہیں ماننی چاہیے‘ منع ہے۔ اور اگر کوئی ان چیزوں کے بارے میں قسم کھا لے یا کوئی نذر مان لے تو وہ پوری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نذر یا قسم کے ساتھ ممنوع کام جائز نہیں ہوسکتا‘ البتہ ایسی قسم کے کفارے کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا معظم ومقدس نام ایسی چیز میں کیوں استعمال کیا جو شرعاً ممنوع ہے۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین ہے‘ لہٰذا ان چیزوں میں نذر اور قسم کے معتبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ندر اور قسم کے باوجود وہ کام جائز نہیں ہوگا بلکہ ایسی نذر یا قسم کو توڑنا واجب ہے۔ اور اس غلطی کا وہ کفارہ ادا کرے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ایسی نذر یا قسم منعقد ہی نہیں ہوتی‘ لہٰذا کفارے کی ضرورت نہیں مگر یہ بات کمزور معلوم ہوتی ہے۔
(2) مباح چیزوں میں نذر ماننا جائز ہے‘ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر ماننا جائز نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3823]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4616
بیچنے والے کے پاس غیر موجود چیز کے بیچنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4616]
اردو حاشہ:
کسی کی چیز کوئی اور شخص نہیں بیچ سکتا۔ اگر بیچے تو ایسی بیع نہیں ہو گی، چیز اصل مالک کی رہے گی، لہٰذا خریدار کو چاہیے کہ خریدنے سے پہلے یقین حاصل کرلے کہ بیچنے والا شخص واقعتا مالک ہے، ورنہ خریدار کی رقم ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ وہ چیز تو اصل مالک ہی کو ملے گی۔ خریدار کو بیچنے والے سے رقم واپس مل گئی تو مل گئی ورنہ ضائع ہے کیونکہ اصل مالک سے رقم کا مطالبہ نہیں کیا جا سکے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4616]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1181
نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1181]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی منسوبہ،
اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا منصوبہ سے مراد متعین عورت ہے۔
مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی،
حالاں کہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔

2؎:
مثلاً یوں کہے إن نَكَحتُ اليَومَ أَو غَداً(اگرمیں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1181]