سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ
باب: قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3285
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِد، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْنَدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ: عَنْ شَرِيكٍ، ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا“ پھر کہا: ”ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ”پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3285]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔“ پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو کئی ایک نے شریک سے، انہوں نے سماک سے، اس نے عکرمہ سے، اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسند روایت کیا ہے۔ ولید بن مسلم نے شریک سے روایت میں کہا ہے: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی نہیں کی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19116) (ضعیف)» (البانی نے اسے صحیح ابی داود (3285) میں عن عکرمة مرسلا داخل کیا ہے، ابن حبان نے مسند ابن عباس کو صحیح میں ذکر کیا ہے 4343)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،عكرمة من التابعين ورواية شريك القاضي ضعيفة،شريك عنعن (تقدم : 95) وانظر (ح 68)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
إسناده ضعيف
السند مرسل،عكرمة من التابعين ورواية شريك القاضي ضعيفة،شريك عنعن (تقدم : 95) وانظر (ح 68)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
حدیث نمبر: 3286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ.
عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا“، پھر فرمایا: ”ان شاءاللہ“ پھر فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ“ پھر فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا“ پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ”ان شاءاللہ“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3286]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔“ پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا: ”اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔“ پھر خاموش رہے بعد میں فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں ولید بن مسلم نے شریک سے مزید یہ بھی بیان کیا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی نہیں کی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19116) (ضعیف)» (عکرمة سے سماک کی روایت میں اضطراب ہے، نیز حدیث مرسل ہے کہ عکرمہ نے صحابی کا تذکر ہ نہیں کیا ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 3286، والتلخیص الحبیر 2496)
وضاحت: ۱؎: اگر قسم میں ”ان شاء اللہ“ بدون توقف اور سکوت کہے تب قسم میں حانث ہونے سے کفارہ لازم نہیں آئے گا، ورنہ لازم آئے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۲۶۱) میں ہے، یہ حدیث ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،عكرمة من التابعين ورواية شريك القاضي ضعيفة،شريك عنعن (تقدم : 95) وانظر (ح 68)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
إسناده ضعيف
السند مرسل،عكرمة من التابعين ورواية شريك القاضي ضعيفة،شريك عنعن (تقدم : 95) وانظر (ح 68)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120