🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب الاستثناء في اليمين بعد السكوت
باب: قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ.
عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا، پھر فرمایا: ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ان شاءاللہ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3286]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔ پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اگر اللہ نے چاہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا۔ پھر خاموش رہے بعد میں فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اگر اللہ نے چاہا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں ولید بن مسلم نے شریک سے مزید یہ بھی بیان کیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19116) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عکرمة سے سماک کی روایت میں اضطراب ہے، نیز حدیث مرسل ہے کہ عکرمہ نے صحابی کا تذکر ہ نہیں کیا ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 3286، والتلخیص الحبیر 2496)
وضاحت: ۱؎: اگر قسم میں ان شاء اللہ بدون توقف اور سکوت کہے تب قسم میں حانث ہونے سے کفارہ لازم نہیں آئے گا، ورنہ لازم آئے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۲۶۱) میں ہے، یہ حدیث ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،عكرمة من التابعين ورواية شريك القاضي ضعيفة،شريك عنعن (تقدم : 95) وانظر (ح 68)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد اللهثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن بشر العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3286
لأغزون قريشا
سنن أبي داود
3285
لأغزون قريشا
Sunan Abi Dawud Hadith 3286 in Urdu