سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب فِي الرَّجُلِ يَتَّجِرُ فِي مَالِ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ
باب: آدمی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے تجارت کرے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3387
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الْأَرُزِّ، فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ، قَالُوا: وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الْأَرُزِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ حِينَ سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْجَبَلُ، فَقَالَ:" كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اذْكُرُوا أَحْسَنَ عَمَلِكُمْ، قَالَ: وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ، فَثَمَّرْتُهُ لَهُ حَتَّى جَمَعْتُ لَهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص ایک فرق ۱؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہو جائے“ لوگوں نے پوچھا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، (بویا اور بڑھایا) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق (مزدوری) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3387]
جناب سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تم میں سے جو کوئی چاولوں کے ٹوپے والے کی مانند بن سکتا ہو تو بن جائے۔“ صحابہ نے پوچھا کہ ”اے اللہ کے رسول! یہ چاولوں کے ٹوپے والا کون ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار والوں کی حدیث بیان کی جب کہ ان پر ایک چٹان آ پڑی تھی۔ تو ان میں سے ہر ایک نے کہا تھا کہ ”اپنا بہترین عمل بیان کرو۔“ چنانچہ تیسرے آدمی نے کہا: ”اے اللہ! تو بخوبی جانتا ہے کہ میں ایک مزدور لایا اور اس کے ساتھ چاولوں کا ایک ٹوپہ مزدوری طے کی۔ جب شام ہوئی تو میں نے اسے اس کا حق پیش کیا، مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ تو پھر میں نے انہیں کاشت کر دیا حتیٰ کہ اس کے لیے گائیں اور چرواہے اکٹھے کر لیے۔ پھر وہ مجھے ملا اور کہنے لگا کہ ”میرا حق مجھے دے دو۔“ تو میں نے کہا: ”جاؤ یہ گائیں اور ان کے چرواہے لے جاؤ۔“ چنانچہ وہ انہیں ہانک لے گیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6779)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإجارة 12 (2272)، المزارعة 13 (2333)، أحادیث الأنبیاء 53 (3465)، الأدب 83 (6133)، صحیح مسلم/الذکر 27 (2743)، مسند احمد (2/116) (اصل حدیث صحیحین میں مفصلا ہے مذکور، اس حدیث کا ابتدائی فقرہ ''من استطاع....'' یا رسول اللہ منکر ہے)»
وضاحت: ۱؎: فرق: سولہ (۱۶) رطل کا ایک پیمانہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر بهذه الزياد التي في أوله وهو في الصحيحين دونها
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عمر بن حمزة: حسن الحديث وثقه الجمھور، ورواه البخاري (2272) ومسلم (2743)
عمر بن حمزة: حسن الحديث وثقه الجمھور، ورواه البخاري (2272) ومسلم (2743)