سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ
باب: مضارب (وکیل) ایسا تصرف کرے جس سے مالک کو فائدہ ہو۔
حدیث نمبر: 3384
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَيُّ، عَنْ عُرْوَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ، قَالَ:" أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً أَوْ شَاةً، فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ".
عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی (اس دعا کے بعد) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3384]
سیدنا عروہ بن الجعد البارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک دینار دیا کہ اس سے قربانی کا جانور یا بکری خرید لائے۔ اس نے دو بکریاں خرید لیں اور پھر ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بکری بھی لے آیا اور ایک دینار بھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تجارت میں برکت کی دعا دی۔ چنانچہ اس کا حال ایسا ہو گیا کہ وہ مٹی بھی خریدتا تو اسے اس میں نفع ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 28 (3642)، سنن الترمذی/البیوع 34 (1258)، سنن ابن ماجہ/الاحکام 7 (2402)، (تحفة الأشراف: 9898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375، 376) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مضاربت ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں ایک آدمی کا پیسہ ہو اور دوسرے کی محنت، پیسے والے کو مضارَب اور محنت والے کو مضارِب کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3642)
حدیث نمبر: 3385
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ.
اس سند سے بھی عروہ بارقی سے یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3385]
ابولبید کہتے ہیں کہ عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور ”اس کے لفظ مختلف ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9898) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3386]
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ ان کے لیے قربانی خرید لائے۔ چنانچہ انہوں نے ایک دینار میں جانور خریدا اور پھر اسے دو دینار میں فروخت کر دیا، اور پھر لوٹتے ہوئے ایک دینار میں دوسرا جانور خریدا۔ چنانچہ انہوں نے (جانور کے ساتھ) وہ دینار بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3438)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 34 (1257) (ضعیف)» (اس کے ایک راوی شیخ من أہل المدینہ مبہم ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1257)
شيخ من أھل المدينة : لعله حبيب بن أبي ثابت كما في سنن ا لترمذي (1257) وھو مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
إسناده ضعيف
ترمذي (1257)
شيخ من أھل المدينة : لعله حبيب بن أبي ثابت كما في سنن ا لترمذي (1257) وھو مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121