🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب فِي التَّسْعِيرِ
باب: نرخ مقرر کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلَالٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: بَلْ أَدْعُو، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: بَلِ اللَّهُ يَخْفِضُ، وَيَرْفَعُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا) البتہ دعا کروں گا (کہ غلہ سستا ہو جائے)، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا: اللہ کے رسول! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3450]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ میں دعا کروں گا (کہ اللہ تعالیٰ ارزانی فرما دے)۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ اللہ ہی گھٹاتا اور بڑھاتا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ کسی کو مجھ پر ظلم کا دعویٰ نہ ہوگا۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/337، 372) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بھاؤ مقرر کر دینے میں کسی کا فائدہ اور کسی کا گھاٹا ہو سکتا ہے تو گھاٹے والا میرا دامن گیر ہو سکتا ہے کہ میری وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3451
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ، وَقَتَادَةُ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ النَّاسُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3451]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نرخ بہت بڑھ گئے ہیں، لہٰذا آپ نرخ مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ عز وجل ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی تنگی کرنے والا، وسعت دینے والا، روزی رساں ہے، اور مجھے یقین ہے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ تم میں سے کوئی بھی مجھ پر کسی خون یا مال کے معاملے میں کوئی مطالبہ نہ رکھتا ہوگا۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 73 (1314)، سنن ابن ماجہ/التجارات 27 (2200)، (تحفة الأشراف: 318، 1158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/286)، دی/ البیوع 13 (2587) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2894)
أخرجه الترمذي (1314 وسنده صحيح) وابن ماجه (2200 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں