🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. باب فِي فَضْلِ الإِقَالَةِ
باب: بیع فسخ کر دینے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3460
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کر لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3460]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا سودا واپس کر لیا، اللہ اس کی لغزشیں واپس کر لے گا۔ (یعنی معاف فرما دے گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/التجارات 26 (2199)، (تحفة الأشراف: 12375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/252) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کی تشریح یہ ہے کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی سامان خریدا، مگر اس کو اس سامان کی ضرورت ختم ہو گئی یا کسی وجہ سے اس خرید پر اس کو پچھتاوا ہوگیا، اور خریدا ہوا سامان واپس کر دینا چاہا تو بائع نے سامان واپس کر لیا، تو گویا اس نے ایک مسلمان پر احسان کیا، اس لئے اللہ تعالیٰ بھی اس پر احسان کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2199)
الأعمش عنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں