🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب فِيمَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3461
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہو گی وہی لاگو ہو گی (اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی) کیونکہ وہ سود ہو جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3461]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک سودے میں دو سودے کیے تو اس کے لیے ان میں سے یا تو کم قیمت ہے یا سود ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15105)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 18 (1231)، سنن النسائی/البیوع 73 (7/4636)، موطا امام مالک/البیوع 33 (73)، مسند احمد (2/432، 475، 503) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «بيعتين في بيعة» ایک چیز کے بیچنے میں دو طرح کی بیع کرنا جیسے بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ یہ کپڑا ایک دینار کا ہے اور یہ دو دینار کا اور خریدنے والے کو دونوں میں سے ایک لینا پڑے، بعض لوگوں نے کہا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے کہے کہ میں نے تمہارے ہاتھ یہ کپڑا نقد دس روپیہ میں اور ادھار پندرہ میں بیچا، بعضوں نے کہا: بیچنے والا خریدار سے کہے کہ میں نے اپنا باغ تمہارے ہاتھ اس شرط سے بیچا کہ تم اپنا گھر میرے ہاتھ بیچو، مگر دوسری صورت اس حدیث کے مضمون سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ایک چیز کی دو بیع میں دو قیمتیں کم اور زیادہ ہیں، اور اگر کم کو اختیار نہ کرے تو سود لازم ہو گا، ایک بیع میں دو بیع کی تشریح ابن القیم نے اس طرح کی ہے: بیچنے والا خریدنے والے کے ہاتھ کوئی سامان سو روپے ادھار پر بیچے، پھر خریدار سے اسی سامان کو اسی روپے نقد پر خرید لے، چونکہ یہ بیع سود تک پہنچانے والی ہے اس لئے ناجائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2868)
رواه الترمذي (1231 وسنده حسن) والنسائي (4636 وسنده حسن) بلفظ ’’نھي عن بيعتين في بيعة‘‘

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں