🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ
باب: شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3485]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت (یعنی خرید و فروخت) کو حرام کیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے، خنزیر اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13792) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةَ وَالْخِنْزِيرَ وَالْأَصْنَامَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے): اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3486]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے سال جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ ہی میں تھے، سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت حرام ٹھہرائی ہے۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق فرمائیں کہ اسے کشتیوں کے تختوں اور چمڑوں پر استعمال کیا جاتا ہے اور لوگ اسے چراغوں میں بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر اس (مردار) کی چربی حرام کر دی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور پھر اس کی قیمت کھانے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 112 (2236)، المغازي 51 (4296)، تفسیر سورة الأنعام 6 (4633)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1581)، سنن الترمذی/البیوع 61 (1297)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 7 (4261)، البیوع 91 (4673)، سنن ابن ماجہ/التجارات 11 (2167)، (تحفة الأشراف: 2494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/324، 326، 370) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2236) صحيح مسلم (1581)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، نَحْوَهُ، لَمْ يَقُلْ هُوَ حَرَامٌ.
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے مگر اس میں انہوں نے «هو حرام» نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3487]
یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت مجھے اسی کی مانند لکھ بھیجی، مگر اس میں «هُوَ حَرَامٌ» وہ حرام ہے کا لفظ نہیں تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2494) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2236) صحيح مسلم (1581)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ بَرَكَةَ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِ، خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ثُمَّ اتَّفَقَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ، قَالَ: فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ثَلَاثًا: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ". وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانِ رَأَيْتُ، وَقَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن (حجر اسود) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی (تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے۔ خالد بن عبداللہ (خالد بن عبداللہ طحان) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال ‏"‏ قاتل الله اليهود» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3488]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بیت اللہ میں) حجر اسود کے پاس بیٹھے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ہنس دیے۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے، تین بار فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربیوں کا استعمال حرام کر دیا تو انہوں نے اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے، تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔ خالد بن عبداللہ الطحان کی روایت میں «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا کا جملہ نہیں ہے اور «لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے کی بجائے «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» کہا، یعنی: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5372)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247، 293، 322) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا (اور بیچنا) چاہیئے (اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3489]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب بیچتا ہے اسے چاہیے کہ خنزیر کو (کھانا) حلال سمجھے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253)، سنن الدارمی/الأشربة 9 (2147) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عمر بن بیان لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن بيان :مجهول الحال،كما في التحرير (4869) وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں: «يسألونك عن الخمر والميسر...» اتریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3490]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور انہیں ہم پر پڑھا اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 73 (459)، والبیوع 25 (2084)، 105 (2226)، وتفسیر آل عمران 49 (4540)، 52 (4543)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (1580)، سنن النسائی/البیوع 89 (4669)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 7 (3382)، (تحفة الأشراف: 17636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/46، 100، 127، 186، 190، 287)، سنن الدارمی/البیوع 35 (2612) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2226) صحيح مسلم (1580)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِه وَمَعْنَاهُ، قَالَ: الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ فِي الرِّبَا.
اعمش سے بھی اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں «الآيات الأواخر من سورة البقرہ» ‏‏‏‏ کے بجائے «الآيات الأواخر في الربا» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3491]
امام اعمش رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اس حدیث کے ہم معنی بیان کرتے ہوئے کہا: آخری آیات، جو سود سے متعلق ہیں (جب وہ نازل ہوئیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17636) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1580)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں