سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فِي قَبُولِ الْهَدَايَا
باب: ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3536
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3536]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے اور اس کا بدل بھی دیا کرتے تھے“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الھبة 11 (2585)، سنن الترمذی/البر والصلة 34 (1953)، (تحفة الأشراف: 17133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2585)
حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَايْمُ اللَّهِ، لَا أَقْبَلُ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا مِنْ أَحَدٍ هَدِيَّةً، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُهَاجِرًا قُرَشِيًّا، أَوْ أَنْصَارِيًّا، أَوْ دَوْسِيًّا، أَوْ ثَقَفِيًّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3537]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں آج کے بعد کسی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے اس کے کہ کوئی مہاجر قریشی ہو یا انصاری یا دوسی یا ثقفی۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 74 (3946)، (تحفة الأشراف: 14320) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کی وجہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی سنن ترمذی کی کتاب المناقب کی آخری حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ تحفہ میں دیا تو آپ نے اس کے بدلے میں اسے چھ اونٹ دئیے، پھر بھی وہ ناراض رہا، اس کا منہ پھولا رہا، جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو اس وقت آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس حدیث کو بیان فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3022)
وللحديث طرق عند ابن حبان (1145 وسنده حسن) وله شاھد عند الترمذي (3945 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3022)
وللحديث طرق عند ابن حبان (1145 وسنده حسن) وله شاھد عند الترمذي (3945 وسنده حسن)