🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب في قبول الهدايا
باب: ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَايْمُ اللَّهِ، لَا أَقْبَلُ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا مِنْ أَحَدٍ هَدِيَّةً، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُهَاجِرًا قُرَشِيًّا، أَوْ أَنْصَارِيًّا، أَوْ دَوْسِيًّا، أَوْ ثَقَفِيًّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3537]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں آج کے بعد کسی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے اس کے کہ کوئی مہاجر قریشی ہو یا انصاری یا دوسی یا ثقفی۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 74 (3946)، (تحفة الأشراف: 14320) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کی وجہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی سنن ترمذی کی کتاب المناقب کی آخری حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ تحفہ میں دیا تو آپ نے اس کے بدلے میں اسے چھ اونٹ دئیے، پھر بھی وہ ناراض رہا، اس کا منہ پھولا رہا، جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو اس وقت آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس حدیث کو بیان فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3022)
وللحديث طرق عند ابن حبان (1145 وسنده حسن) وله شاھد عند الترمذي (3945 وسنده حسن)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد
Newكيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← كيسان المقبري
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق مدلس
👤←👥سلمة بن الفضل الأنصاري، أبو عبد الله
Newسلمة بن الفضل الأنصاري ← ابن إسحاق القرشي
صدوق كثير الخطأ
👤←👥محمد بن عمرو التميمي، أبو غسان
Newمحمد بن عمرو التميمي ← سلمة بن الفضل الأنصاري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3790
لقد هممت أن لا أقبل هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي
جامع الترمذي
3946
إن رجالا من العرب يهدي أحدهم الهدية فأعوضه منها بقدر ما عندي ثم يتسخطه فيظل يتسخط فيه علي وايم الله لا أقبل بعد مقامي هذا من رجل من العرب هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي
جامع الترمذي
3945
إن فلانا أهدى إلي ناقة فعوضته منها ست بكرات فظل ساخطا ولقد هممت أن لا أقبل هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي
سنن أبي داود
3537
لا أقبل بعد يومي هذا من أحد هدية إلا أن يكون مهاجرا قرشيا أو أنصاريا أو دوسيا أو ثقفيا
مسندالحميدي
1082
لقد هممت أن لا أتهب هبة إلا من قرشي، أو أنصاري، أو ثقفي، أو دوسي
مسندالحميدي
1083
لقد هممت أن لا أتهب هبة إلا من قرشي، أو أنصاري، أو ثقفي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3537 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3537
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
در اصل بعض لوگ بہت زیادہ بدلہ لینے کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دینے لگے تھے۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عزم ظاہر فرمایا اور مذکورہ خاندانوں کے لوگ طبعا ً غنی تھے۔
اور ان میں بالمعوم طمع نہیں ہوتی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3537]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3790
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3790]
اردو حاشہ:
(1) اس فرمان کا سبب یہ ہوا کہ ایک اعرابی نے آپ کو ایک اونٹ تحفے میں دیا۔ اس کا مقصد معاوضـہ لینا تھا۔ آپ نے اسے چھ اونٹ دے دیے‘ پھر بھی وہ راضی نہ ہوا‘ اس لیے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کیونکہ لوگوں نے آپ کو عام بادشاہوں کی طرح سمجھ رکھا تھا کہ جن سے حیلے بہانوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔
(2) قریشی‘ انصاری‘ ثقفی‘ دوسی چونکہ آپ کے تربیت یافتہ اور آپ کی حیثیت سے واقف تھے‘ وہ آپ کو تحفہ تبرک کی غرض سے دیتے تھے‘ اس لیے آپ نے ان قبیلوں کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔
(3) اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحفہ دینے والہ لالچی شخص ہو اور جو عوض دیا جائے اس پر راضی نہ ہوتا ہو تو تحفہ قبول کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔
(4) تحفہ دینے والے کو اس کے تحفے کے مقابل عوض دینا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3790]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3945
قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3945]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3945]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3946
قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3946]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں،
لیکن صاحب اوہام ہیں،
اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں،
لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اورسابقہ حدیث صحیح ہے،
ملاحظہ ہو:الصحیحة رقم: 1684)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3946]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1082
1082- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی تحفے کے طور پر پیش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (بدلے کے طور پر) تین اونٹنیاں دیں۔ لیکن وہ اس سے راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید تین اونٹنیاں دیں وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین اونٹنیاں دیں۔ وہ نو اونٹنیاں لے کر راضی ہوگیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ اب میں صرف کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی شخص کا تحفہ ہی قبول کیا کروں گا۔‏‏‏‏ سفیان کہتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1082]
فائدہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیاض ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی آپ کو ہدیہ دے، اس کے بدلے میں اس سے بہتر ہدیہ دینا سنت ہے بعض لوگ ساری عمر ہدیہ لینے میں ہی رہتے ہیں اور دیتے نہیں ہیں، یہ اندا محل نظر ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1081]

Sunan Abi Dawud Hadith 3537 in Urdu