سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ
باب: کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟
حدیث نمبر: 3600
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغِمْرُ الْحِنَةُ، وَالشَّحْنَاءُ، وَالْقَانِعُ الْأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الْأَجِيرِ الْخَاصِّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3600]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خائن مرد، خائن عورت اور اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور بغض رکھنے والے کی گواہی رد فرمائی ہے اور ایسے ہی جو کسی گھر والوں کا خدمت گار (نوکر، غلام اور تابع) ہو، اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی، البتہ دوسروں کے حق میں قبول ہے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «اَلْغِمْرُ» کا معنی بغض و عداوت ہے اور «اَلْقَانِعُ» سے مراد تابع رہنے والا ہے جیسے کہ کوئی خاص نوکر ہوتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 203، 204، 225) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3782)
مشكوة المصابيح (3782)
حدیث نمبر: 3601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ طَارِقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ، وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ".
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3601]
سلیمان بن موسیٰ نے اپنی سند سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”کسی خائن مرد یا عورت، زانی مرد یا عورت یا اپنے بھائی کے بارے میں بغض و عداوت رکھنے والے کی گواہی جائز نہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8711) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3782)
سنده قوي وانظر الحديث السابق (3600)
مشكوة المصابيح (3782)
سنده قوي وانظر الحديث السابق (3600)