سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3605
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ،" أَنَّ رَجُلًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاء هَذِهِ، وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَأَخْبَرَاهُ، وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، وَوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلَا كَذَبَا وَلَا بَدَّلَا وَلَا كَتَمَا وَلَا غَيَّرَا، وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا".
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام ”دقوقاء“ میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں (اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3605]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان کی «دَقُوقَاء» مقام پر وفات ہو گئی۔ اسے کوئی مسلمان نہ ملا جو اس کی وصیت پر گواہ ہوتا، تو اس نے اہل کتاب کے دو آدمیوں کو گواہ بنایا۔ پھر وہ دونوں کوفہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو اس کی خبر دی اور اس کا ترکہ اور وصیت بھی پیش کی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے بعد نہیں ہوا ہے۔“ تو انہوں نے عصر کے بعد ان سے اللہ کے نام کی قسم لی کہ انہوں نے کسی قسم کی خیانت، جھوٹ یا تبدیلی نہیں کی ہے، کچھ چھپایا ہے نہ کوئی تغییر کی ہے، اور اس میت کی وصیت اور ترکہ یہی کچھ ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان کی گواہی کو قبول کر لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9013) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد إن كان الشعبي سمعه من أبي موسى
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زكريا بن أبي زائدة عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/47 وھو من الثالثة)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
زكريا بن أبي زائدة عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/47 وھو من الثالثة)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
حدیث نمبر: 3606
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَعُدَيِّ بْنِ بَدَّاءٍ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعُدَيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيهِمْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ سورة المائدة آية 106".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة: (۱۰۶) انہی کی شان میں اتری ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3606]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کی معیت میں سفر پر نکلا۔ (دورانِ سفر) سہمی کی وفات ہو گئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو (وارثوں نے) چاندی کا ایک پیالہ گم پایا جس پر سونے کے پترے چڑھے ہوئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم لی۔ پھر بعد میں وہ جام مکہ میں مل گیا۔ (جن کے پاس سے ملا) انہوں نے کہا: ”ہم نے یہ تمیم اور عدی سے خریدا ہے“۔ پھر مرنے والے سہمی کے وارثوں میں سے دو نے قسم کھائی اور کہا: ”ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور یہ جام ہمارے آدمی کا ہے“۔ چنانچہ انہی کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ [سورة المائدة: 106] ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 35 (2780)، سنن الترمذی/التفسیر 20 (3060)، (تحفة الأشراف: 5551) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں اس واقعہ کے وقت نصرانی تھے، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2780)