🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ
باب: آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3622]
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو کندہ اور حضرموت کے دو آدمی اپنی ایک زمین کا تنازع لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ زمین یمن میں تھی۔ حضرمی نے کہا: اے اللہ کے! اس کے والد نے میری زمین غصب کر لی تھی اور وہ اب اس کے قبضے میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (حضرمی) سے پوچھا: کیا تیرا کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ لیکن میں اسے (کندی کو) اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا یہ نہیں جانتا کہ یہ میری زمین ہے اور اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر رکھی تھی؟ چنانچہ وہ کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اور (ابن قیس رضی اللہ عنہ نے) آگے حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3244)، (تحفة الأشراف: 159) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3776)
انظر الحديث السابق (3244)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ".
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کندی سے) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3623]
سیدنا علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرموت اور بنو کندہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی میری زمین پر قابض ہو گیا ہے جو کہ میرے والد کی تھی۔ کندی نے کہا: یہ زمین میری ہے، میرے قبضے میں ہے، میں ہی اسے کاشت کر رہا ہوں، اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: کیا تیرا کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تیرے لیے اس کی قسم ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فاجر آدمی ہے، اسے کوئی پروا نہیں کہ کیا قسم کھا رہا ہے۔ اسے کسی چیز کا پرہیز اور ڈر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے اس سے بس یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3245)، (تحفة الأشراف: 11768) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (139)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں