🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ
باب: جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ"، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3757]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا رات کا کھانا رکھ دیا گیا ہو اور نماز کی اقامت بھی ہو گئی ہو تو (نماز کے لیے) نہ اٹھے حتیٰ کہ کھانے سے فارغ ہو جائے۔ مسدد نے مزید کہا کہ سیدنا عبداللہ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کے لیے رات کا کھانا رکھ دیا جاتا یا شام کا کھانا تیار ہو جاتا تو وہ کھانے سے فارغ ہو جانے تک نہ اٹھتے خواہ اقامت سن لیتے یا امام کی قراءت سن رہے ہوتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8212)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (673)، الأطعمة (5463)، صحیح مسلم/المساجد 16 (559)، سنن الترمذی/الصلاة 145(354)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 34 (934)، مسند احمد (2/20، 103) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث نمبر (۳۷۵۹) کی روشنی میں اس سے وہ کھانا مراد ہے جو بہت مختصر اور تھوڑا ہو، اور جماعت میں سے کچھ مل جانے کی امید ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (677) صحيح مسلم (559)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3758
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُؤَخَّرِ الصَّلَاةُ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے یا کسی اور کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کی جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3758]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے یا کسی اور وجہ سے نماز کو مؤخر نہ کیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3758) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن ميمون الزعفراني ضعيف،كما في التحرير (6346) ضعفه الجمهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ أَبِي فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ، مَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ أَتُرَاهُ كَانَ مِثْلَ عَشَاءِ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے شام کا کھانا شروع کر دیا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3759]
جناب عبداللہ بن عبید بن عمیر نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور کی بات ہے کہ میں اپنے والد (عبید بن عمیر) کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ (نماز سے پہلے) عشائیے (رات کے کھانے) سے ابتداء کی جائے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: افسوس تم پر! بھلا ان کا عشائیہ کیا ہوتا تھا؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے باپ کے عشائیے کی طرح ہوتا تھا؟ (یعنی کیا انواع و اقسام کے کھانے ہوتے تھے؟)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7281) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کا کھانا بہت مختصر ہوتا تھا، تمہارے والد عبداللہ بن زبیر کے کھانے کی طرح پرتکلف اور نواع و اقسام کا نہیں ہوتا تھا کہ جس کے کھانے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور جماعت چھوٹ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں