🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب إذا حضرت الصلاة والعشاء
باب: جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ أَبِي فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ، مَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ أَتُرَاهُ كَانَ مِثْلَ عَشَاءِ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے شام کا کھانا شروع کر دیا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3759]
جناب عبداللہ بن عبید بن عمیر نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور کی بات ہے کہ میں اپنے والد (عبید بن عمیر) کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ (نماز سے پہلے) عشائیے (رات کے کھانے) سے ابتداء کی جائے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: افسوس تم پر! بھلا ان کا عشائیہ کیا ہوتا تھا؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے باپ کے عشائیے کی طرح ہوتا تھا؟ (یعنی کیا انواع و اقسام کے کھانے ہوتے تھے؟)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7281) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کا کھانا بہت مختصر ہوتا تھا، تمہارے والد عبداللہ بن زبیر کے کھانے کی طرح پرتکلف اور نواع و اقسام کا نہیں ہوتا تھا کہ جس کے کھانے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور جماعت چھوٹ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عبيد الليثي، أبو هاشم
Newعبد الله بن عبيد الليثي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥الضحاك بن عثمان الحزامي، أبو عثمان
Newالضحاك بن عثمان الحزامي ← عبد الله بن عبيد الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الكبير بن عبد المجيد البصري، أبو بكر
Newعبد الكبير بن عبد المجيد البصري ← الضحاك بن عثمان الحزامي
ثقة
👤←👥علي بن مسلم الطوسي، أبو الحسن
Newعلي بن مسلم الطوسي ← عبد الكبير بن عبد المجيد البصري
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3759 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3759
فوائد ومسائل:
فائدہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی روایت (7358) سندا ضعیف ہے، لیکن حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیروالی روایت صحیح ہے۔
اور پچھلی حدیث کے مفہوم کی تایئد کرتی ہے۔
باب کی پہلی حدیث میں نماز سے پہلے کھانے اور دو احادیث کھانے کے لئے نماز کو موخر نہ کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔
علامہ خطابی دونوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
کہ اگر کھانے کی طلب بہت زیادہ ہو اور دستر خوان بھی لگا دیا گیا ہو تو پہلے کھانا کھا لیا جائے۔
لیکن اگر یہ کیفیت نہ ہو۔
کھانے میں تکلفات ہوں اور بہت زیادہ دیر لگتی ہو اور نماز کا وقت یا جماعت نکل جانے کا اندیشہ ہوتو پہلے نماز پڑھ لی جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3759]

Sunan Abi Dawud Hadith 3759 in Urdu