🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ
باب: جب کسی کے یہاں کھانا کھایا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" صَنَعَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: أَثِيبُوا أَخَاكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِثَابَتُهُ؟، قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دُخِلَ بَيْتُهُ، فَأُكِلَ طَعَامُهُ وَشُرِبَ شَرَابُهُ، فَدَعَوْا لَهُ فَذَلِكَ إِثَابَتُهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3853]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوالہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانے کا اہتمام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلایا۔ چنانچہ جب وہ فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کو اس کا عوض پیش کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا عوض اور بدل کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کے گھر جایا جائے، اس کا کھانا کھایا جائے، پانی پیا جائے تو اس کے لیے دعا کی جائے۔ یہی اس کا عوض اور بدل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3170) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو خالد الدالاني عنعن والرجل مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3854
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: «أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة» تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور فرشتے تمہارے لیے دعائیں کریں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3854]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جناب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے روٹی اور روغن زیتون پیش کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» روزے دار تمہارے ہاں افطار کیا کریں، نیک صالح لوگ تمہارا کھانا کھایا کریں اور فرشتے تمہیں دعائیں دیا کریں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 138، 201)، سنن الدارمی/الصوم 51 (1813) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ابن ماجہ (۱۷۴۷) میں ہے، لیکن اس میں البانی صاحب قرعۃ میں (صحیح دون الفطر عند سعد)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شاھد حسن في مشكل الآثار (1/498، 499)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں