سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ
باب: کپڑے دھونے کا اور پرانے کپڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4062
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ، فَقَالَ:" أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ، وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: ”کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟“ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: ”کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4062]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال بکھرے بکھرے سے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے بالوں کو سنوار لے؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کو دیکھا جس کے کپڑے میلے ہو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے کپڑے دھو لے؟“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة من المجتبی 6 (5238)، (تحفة الأشراف: 3012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4351)
أخرجه النسائي (5238 وسنده صحيح) وابن عبد البر في التمھيد (5/52)
مشكوة المصابيح (4351)
أخرجه النسائي (5238 وسنده صحيح) وابن عبد البر في التمھيد (5/52)
حدیث نمبر: 4063
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟ قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، قَالَ: فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا، فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ".
مالک بن نضلۃ الجشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم مالدار ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس قسم کا مال ہے؟“ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4063]
جناب ابوالاحوص (عوف) اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے گھٹیا کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس قسم کا؟“ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام، ہر طرح کا مال عنایت فرمایا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت اور احسان کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہیے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 52 (5225)، الزینة من المجتبی 28 (5296)، (تحفة الأشراف: 11203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 473، 4/137) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أبو إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/473) ورواه عنه شعبة أيضًا
أبو إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/473) ورواه عنه شعبة أيضًا