🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في غسل الثوب وفي الخلقان
باب: کپڑے دھونے کا اور پرانے کپڑوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4062
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ، فَقَالَ:" أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ، وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4062]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال بکھرے بکھرے سے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے بالوں کو سنوار لے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کو دیکھا جس کے کپڑے میلے ہو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے کپڑے دھو لے؟ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة من المجتبی 6 (5238)، (تحفة الأشراف: 3012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4351)
أخرجه النسائي (5238 وسنده صحيح) وابن عبد البر في التمھيد (5/52)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥حسان بن عطية المحاربي، أبو بكر
Newحسان بن عطية المحاربي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← حسان بن عطية المحاربي
ثقة مأمون
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة مأمون
👤←👥مسكين بن بكير الحراني، أبو عبد الرحمن
Newمسكين بن بكير الحراني ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← مسكين بن بكير الحراني
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4062 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4062
فوائد ومسائل:
لازم ہے کہ مسلمان اپنے جسم اور اپنے لباس کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھا کرے۔
میلا کچیلا رہنا اور بالوں کو نہ سنوارنا نہ زہد ہے نہ سادگی بلکہ جہالت اور غفلت کی علامت ہے جو کسی باوقار مسلمان کے لائق نہیں۔
اسلام انتہائی صاف ستھرا دین ہے اور اپنے پیروکاروں سے بھی صفائی کا تقاضا کرتا ہے نیز اللہ تعالی جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند فرماتا ہے، رسول ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ بلا شبہ اللہ تعالی حسین وجمیل ہے اور جمال یعنی حسن وخوبصورتی کو پسند کرتا فرماتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4062]

Sunan Abi Dawud Hadith 4062 in Urdu