🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب فِي جُلُودِ النُّمُورِ وَالسِّبَاعِ
باب: چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ"، قَالَ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ: أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيَرَةَ.
امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو۔ ابن سیرین کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4129]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَزّ» (ریشم) کے کپڑے اور چیتے کی کھال کو اپنی گدی مت بناؤ۔ (انہیں بطور زین یا زین پوش استعمال نہ کرو۔) ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت حدیث میں متہم نہیں تھے۔ (ان کی سیاسی آراء سے کسی کو اختلاف ہو تو الگ بات ہے ورنہ فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقل میں نہایت قابل اعتماد تھے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11429)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 47 (3656)، مسند احمد (4/93، 94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4357)
أخرجه ابن ماجه (3656 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4130]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جماعت میں چیتے کی کھال ہو اس کے ساتھ (رحمت کے) فرشتے نہیں چلتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12898) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4131
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ" أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي، وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ".
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4131]
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکرب، عمرو بن اسود اور قبیلہ بنو اسد کا ایک آدمی جو اہل قنسرین میں سے تھا، سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے۔ معاویہ نے مقدام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں؟ تو مقدام نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں پڑھا۔ تو ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا: یہ (حسن) مجھ سے ہے اور حسین علی سے! اسدی آدمی نے کہا: «جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ایک چنگاری تھی جسے اللہ عزوجل نے بجھا دیا۔ مقدام نے کہا: مگر (میں تو ایسی بات نہیں کہتا جو اس اسدی نے کہی ہے) میں آج تمہیں غصہ دلا کے رہوں گا اور وہ کچھ سناؤں گا جو تمہیں برا لگے۔ پھر کہا: اے معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر غلط کہوں تو تردید کر دینا۔ معاویہ نے کہا: ایسے ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ مقدام نے پھر کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تمہیں خبر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے روکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ سیدنا مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے روکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ مقدام نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھا ہے۔ اے معاویہ! اس پر معاویہ نے کہا: اے مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تجھ سے ہرگز نہیں بچ سکوں گا۔ خالد بن معدان نے بیان کیا کہ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام کے لیے اس قدر انعام کا حکم دیا جو اس کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہیں تھا اور ان کے بیٹے کے لیے دو سو والوں میں حصہ مقرر کر دیا۔ چنانچہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ مگر اسدی نے جو وصول کیا اس میں سے کسی کو کچھ نہ دیا۔ معاویہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام کھلے ہاتھ کے سخی آدمی ہیں اور اسدی اپنے مال کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4259)، (تحفة الأشراف: 11411، 11555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/132) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (505)
أخرجه النسائي (4260 وسنده حسن) رواية بقية عن بحير صحيحة لأنھا من كتاب

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ".
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4132]
جناب ابوملیح بن اسامہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/اللباس32 (1771)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4258)، (تحفة الأشراف: 131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (506)
وله شاھد حسن عند البيھقي (1/21)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں