سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فِي الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4164
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ،" أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ، فَقَالَتْ: لَا بَأْسَ بِهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُهُ، كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ رِيحَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ.
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4164]
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مہندی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ”اس میں کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، کیونکہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو ناپسند تھی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس عورت کا مقصد سر کے بالوں کو مہندی لگانا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 19 (5093)، (تحفة الأشراف: 17959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/117، 210) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5093)
كريمة : لم أجد من و ثقها وقال الحافظ : مقبولة (تق : 8673) أي مجهولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
إسناده ضعيف
نسائي (5093)
كريمة : لم أجد من و ثقها وقال الحافظ : مقبولة (تق : 8673) أي مجهولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هَنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي، قَالَ:" لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4165]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجیے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس وقت تک تمہاری بیعت نہیں لوں گا جب تک کہ تم اپنی ہتھیلیوں کو رنگ نہ لو، یہ تو گویا درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17994) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
حدیث نمبر: 4166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ؟ قَالَتْ: بَلِ امْرَأَةٌ، قَالَ: لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا“ تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی“ یعنی مہندی سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4166]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا، اس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خط تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ یہ ہاتھ مرد کا ہے یا عورت کا؟“ اس نے کہا: ”عورت کا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو رنگ لیتی۔“ یعنی مہندی لگاتی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 18 (5092)، (تحفة الأشراف: 17868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/262) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5092)
صفية بنت عصمة : لا تعرف ومطيع :لين لحديث (تق : 8624،6820)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
نسائي (5092)
صفية بنت عصمة : لا تعرف ومطيع :لين لحديث (تق : 8624،6820)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148