🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ مَرْوَانَ أَخَذَ غُلَامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْكَثَرُ الْجُمَّارُ.
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کر لیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پھل اور جمار (کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا تو اس شخص نے کہا: مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پھل اور گابھا کے (چرانے میں) ہاتھ نہیں کٹے گا مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «کثر» کے معنیٰ «جمار» کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4388]
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا کہ ایک غلام نے کسی کے باغ سے کھجور کا ایک پودا چوری کر کے اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا۔ پودے والا اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا اور اسے پا لیا۔ پھر اس غلام کا مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں پیش کر دیا جو ان دنوں مدینے کے امیر تھے۔ مروان نے غلام کو قید کر لیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دے۔ تب غلام کا مالک سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، وہ فرماتے تھے: (درختوں پر لگے) پھل میں اور کھجور کی گری میں ہاتھ نہیں کٹتا۔ تو اس آدمی نے کہا: تحقیق مروان نے میرے غلام کو پکڑا ہوا ہے اور وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ اس کے پاس چلیں اور جو حدیث آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اسے بھی بتائیں۔ چنانچہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ گئے اور مروان کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پھل میں اور کھجور کی گری میں ہاتھ نہیں کٹتا۔ چنانچہ مروان نے حکم دیا اور غلام کو چھوڑ دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اَلْكَثَرُ» سے مراد کھجور کی وہ نرم گری ہے جو اس کے تنے کے اوپر کنارے میں ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 19 (1449)، سنن النسائی/قطع السارق 10 (4964)، سنن ابن ماجہ/الحدود 27 (2593)، (تحفة الأشراف: 3581، 3588)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 11 (32)، مسند احمد (3/463، 464، 5/140، 142)، سنن الدارمی/الحدود 7 (2350) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «جمار» کھجور کے درخت کی پیڑی کے اندر سے نکلنے والا نرم جو چربی کے طرح سفید ہوتا ہے، اور کھایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3593)
أخرجه النسائي (4964) وھو في الموطأ (2/839) وصححه ابن الجارود (826) وابن حبان (1505) وزاد بعض الرواة في السند، واسع بن حبان ثقة وھو من المزيد في متصل الأسانيد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4389
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ.
اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4389]
محمد بن یحییٰ بن حبان نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور کہا کہ: مروان نے اس غلام کو چند کوڑے مارے اور چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ،(تحفة الأشراف: 3581) (شاذ)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صحيح محفوظ، وانظر الحديث السابق (4388)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4390
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ:" مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَرِينُ الْجُوخَانُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہو گی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4390]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ درختوں پر لگی کھجوروں کا کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ضرورت مند اپنے منہ سے کھا لے، لیکن پلو میں نہ باندھے تو اس پر کچھ نہیں، اور اگر کوئی کچھ لے کر نکلے تو اس پر اس کا دگنا جرمانہ اور سزا ہے، اور اگر کوئی کھلیان میں محفوظ کر دینے کے بعد چرائے اور اس کی قیمت ایک ڈھال کو پہنچے تو اس میں ہاتھ کا کاٹنا ہے، اور جو کوئی اس سے کم چرائے تو اس پر چوری شدہ کا دوگنا جرمانہ اور سزا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اَلْجَرِينُ» سے مراد «جَوْخَانُ» ہے، یعنی جہاں کھجور وغیرہ خشک اور ذخیرہ کی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، سنن النسائی/قطع السارق 9 (4961)، سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2596)، (تحفة الأشراف: 8798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ان جريج تابعه عمرو بن الحارث وهشام بن سعد عند ابن الجارود (728 وسنده حسن) والنسائي (4962 مختصرًا، وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں