🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب تَرْكِ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الأَهْوَاءِ
باب: اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے (ہاتھوں پر) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4601]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس پہنچا اور حالت یہ تھی کہ میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے۔ تو انہوں نے مجھے (میرے ہاتھوں پر) زعفران لگا دیا۔ صبح کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4176)، (تحفة الأشراف: 10372) (حسن)» ‏‏‏‏ (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عطاء خراسانی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثان السابقان (225،4176)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4602
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهُ اعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ: أَعْطِيهَا بَعِيرًا، فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَهَا ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے فرمایا: تم اسے ایک اونٹ دے دو وہ بولیں: میں اس یہودن کو دے دوں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4602]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک زائد سواری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: اونٹ اسے دے دو۔ تو انہوں نے کہا: بھلا میں اس یہودن کو دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اور ذوالحجہ، محرم اور صفر کے کچھ دنوں تک ان سے بات چیت نہ کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17845)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 261، 338) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی راویہ سمیہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5049)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں